پیغمبرِ انقلاب
Urdu book, p. 285
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سے متفق نہ تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یا تو ابو عبیدہ دونوں دوستوں کے مشترک امیر ہوں یا دونوں دوستوں کا امیر الگ رہے۔ جب اختلاف بڑھا تو ابو عبیدہ بن الجراح نے کہا: اے عمرو، جان لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے جو آخری عہد لیا وہ یہ تھا کہ آپ نے کہا کہ جب تم اپنے ساتھی سے ملو تو ایک دوسرے کی بات ماننا اور اختلاف نہ کرنا۔ اس لیے خدا کی قسم اگر تم میری نافرمانی کرو گے تب بھی میں تمہاری اطاعت کروں گا ( تعلم یا عمر و اَنّ آخِرَ مَا عَهِدَ إِلى رسولِ الله صلى الله عليه و سلم أنْ قَالَ : إِذَا قَدِمْتَ عَلَى صَاحِبِكَ فَتَطَاوَعَا وَلاَ تَخْتَلِفَا - وَإِنَّكَ وَاللهِ إِنْ عَصَيْتَنِي لَأُطِيعَنَّكَ ) مغازی الواقدی، جلد 2، صفحہ 771 ۔ حضرت ابو عبیدہ کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ ذمہ داری کو عمر و بن العاص پر ڈال کر ان سے لا متناہی بحث کرتے رہیں۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتے تو وہ بہت سے ایسے الفاظ پا سکتے تھے جن میں ان کا اپنا وجود بالکل درست اور دوسرے کا وجود بالکل باطل دکھائی دے۔ مگر اس کے بجائے انہوں نے یہ کیا کہ ساری ذمہ داری خود اپنے اوپر لے لی۔ انہوں نے مسئلہ کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیا۔ اجتماعی زندگی میں یہ چیز بے حد ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی اجتماعی زندگی چلتی ہی اس وقت ہے جب کہ اس کے افراد میں اتنی بلندی ہو کہ وہ حقوق کی بحث میں پڑے بغیر اپنے اوپر ذمہ داری لینے کی جرات رکھتے ہوں۔ جہاں یہ مزاج نہ ہو وہاں صرف آپس کا اختلاف جنم لیتا ہے نہ کہ آپس کا اتحاد۔ شکایات سے اوپر اٹھ کر سوچنا خالد بن الولید بے حد بہادر تھے۔ ان کے اندر غیر معمولی فوجی قابلیت تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے لے کر حضرت ابو بکر کی خلافت تک وہ مسلسل اسلامی فوج کے سردار رہے۔ تاہم حضرت عمر کو ان کی بعض عادتیں پسند نہ تھیں ۔ چنانچہ انہوں نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ ان کو سرداری کے عہدہ سے ہٹا دیا جائے۔ مگر حضرت ابو بکر نے ان کے مشورہ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader