شکایات سے اوپر اٹھ کر سوچنا
Urdu book, p. 286
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں مانا۔ مگر حضرت عمر کو اپنی رائے پر اتنا اصرار تھا کہ جب وہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے حضرت خالد کو سرداری سے معزول کر کے ایک معمولی سپاہی کی حیثیت دے دی۔ اس وقت حضرت خالد شام کے علاقہ میں فتوحات کے کارنامے دکھا رہے تھے۔ عین اس وقت خلیفہ ثانی نے انہیں معزول کر کے ابو عبیدہ بن الجراح کو ان کے اوپر سردار بنا دیا۔ اس کے بعد فوجیوں کی ایک تعداد خالد بن ولید کے خیمہ میں جمع ہوئی اور ان سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، آپ خلیفہ کا حکم نہ مانیے۔ مگر حضرت خالد نے سب کو رخصت کر دیا اور کہا کہ میں عمر کے لیے نہیں لڑتا بلکہ عمر کے رب کے لیے لڑتا ہوں (انی لا اقاتل فی سبيل عمر، ولكن اقاتل فی سبيل رب عمر)۔ وہ پہلے سردار لشکر کی حیثیت سے لڑتے تھے اور اب ایک ماتحت فوجی کی حیثیت سے لڑنے لگے۔ اس قسم کا کردار اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی اتنا اونچا ہو جائے کہ وہ شکایتوں اور تلخیوں سے اوپر اٹھ کر سوچے۔ اس کا رویہ ردعمل کے طور پر نہ بنے بلکہ مثبت فکر کے تحت بنے۔ وہ اللہ میں جینے والا ہو نہ کہ انسانی باتوں میں جینے والا۔ قانونی حد سے آگے بڑھ کر ساتھ دینا شعبان 2 ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ قریش کے تمام سرداروں کی رہنمائی میں ایک ہزار کا لشکر مدینہ کی طرف حملہ کرنے کے لیے بڑھ رہا ہے۔ اس میں چھ سو زرہ پوش تھے اور اسی کے ساتھ ایک سو سواروں کا خصوصی دستہ بھی شامل تھا۔ یہ ایک بہت نازک وقت تھا۔ آپ نے مدینہ کے انصار اور مہاجرین کو جمع کیا اور ان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے یہ سوال رکھا کہ ایسی حالت میں کیا کرنا چاہیے۔ حسب معمول اولاً مہاجرین کے ممتاز افراد اٹھے اور انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، آپ کا رب جس بات کا حکم دے رہا ہے اس کی طرف بڑھیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم یہود کی طرح یہ کہنے والے نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader