شکایات سے اوپر اٹھ کر سوچنا
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کہ تم اور تمہارا خدا جا کر لڑیں، ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ آپ اور آپ کا چل کر لڑیں، ہم بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ جب تک ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کر رہی ہے ہم آپ کا ساتھ چھوڑنے والے نہیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کی اس قسم کی تقریروں کے باوجود بار بار یہ فرما رہے تھے کہ لوگو مجھے مشورہ دو (أَشِيرُوا عَلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ) ۔ چنانچہ سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، شاید آپ کا رخ ہماری طرف ہے۔ آپ نے کہا، ہاں، اس پر سعد بن معاذ نے انصار کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا: ہم آپ پر ایمان لائے۔ آپ کی تصدیق کی، اور اس بات کی گواہی دی کہ جو کچھ آپ لائے ہیں، وہ حق ہے، اور اس پر آپ سے سمع و طاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں، پس اے خدا کے رسول، آپ جو کچھ چاہتے ہیں اس کو کر گزریے، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اگر آپ ہمیں لے کر سمندر کے سامنے جا پہنچیں اور اس میں گھس جائیں تو ہم بھی آپ کے ساتھ سمندر میں گھس جائیں گے۔ ہم میں سے ایک آدمی بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہم کو ہرگز یہ گوارا نہیں ہے کہ آپ ہمیں لے کر کل کے دن دشمن سے ٹکرا جائیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہنے والے ہیں۔ مقابلہ کے وقت سچے اترنے والے ہیں۔ شاید اللہ تعالیٰ آپ کو ہم سے وہ کچھ دکھا دے جس سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ہم کو لے کر چلیں (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 615) ۔ انصار کے قائد کی اس تقریر کے بعد اقدام کا فیصلہ کر لیا گیا۔ بدر کی جنگ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار انصار کی طرف رخ کرنا بے سبب نہ تھا۔ اس کا ایک خاص پس منظر تھا۔ ابن ہشام اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader