شکایات سے اوپر اٹھ کر سوچنا
Urdu book, p. 288
By Maulana Wahiduddin Khan
وَأَنَّهُمْ حِينَ بَايَعُوهُ بِالْعَقَبَةِ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ: إِنَّا بُرَاءُ مِنْ ذِمَامِكَ حَتَّى تَصِلَ إِلَى دِيَارِنَا، فَإِذَا وَصَلْتَ إِلَيْنَا، فَأَنْتَ فِي ذِمَّتِنَا نَمْنَعُكَ مِمَّا نَمْنَعُ مِنْهُ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا. فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَوَّفُ أَلَّا تَكُونَ الْأَنْصَارُ تَرَى عَلَيْهَا نَصْرَهُ إِلَّا مِمَّنْ دَهَمَهُ بِالْمَدِينَةِ مِنْ عَدُوِّهِ، وَأَنْ لَيْسَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَسِيرَ بِهِمْ إِلَى عَدُوٌّ مِنْ بِلَادِهِمْ (سيرت ابن هشام، جلد 1، صفحه 615)_ یعنی، اور ایسا اس لیے ہوا کہ انصار نے جب عقبہ میں بیعت کی تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ اے خدا کے رسول، ہم آپ کی ذمہ داری سے بری ہیں یہاں تک کہ آپ ہمارے دیس میں پہنچ جائیں۔ جب آپ ہمارے پاس آجائیں گے تو آپ ہماری ذمہ داری میں ہوں گے اور ہم آپ کا دفاع کریں گے جس طرح ہم اپنے لڑکوں اور عورتوں کا دفاع کرتے ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اندیشہ تھا کہ انصار کہیں یہ سمجھتے ہوں کہ ان پر آپ کی مدد کرنا اس وقت ہے جب کہ آپ کا دشمن مدینہ پہنچ کر حملہ کرے۔ ان پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اپنی بستی سے دور جا کر مقابلہ کریں۔ انصار کی بیعت قدیم عربی اصطلاح کے مطابق بیعت نساء (دفاعی بیعت) تھی۔ اس کے مطابق مدینہ سے 80 میل دور بدر کے مقام پر جا کر لڑنا ان کے لیے ضروری نہ تھا۔ مگر انصار نے اس کو اپنے لیے عذر نہیں بنایا۔ وہ قانونی حد کو توڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور بدر کے میدان میں جا کر قربانی پیش کی۔ اختلاف سے بچ کر اصل نشانہ پر لگے رہنا عَنِ المِسْوَرِ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلنَّاسِ كَافَّةً، فَأَدُّوا عَنِّي يَرْحَمْكُمُ اللَّهُ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader