شکایات سے اوپر اٹھ کر سوچنا
Urdu book, p. 289
By Maulana Wahiduddin Khan
وَلَا تَخْتَلِفُوا كَمَا اخْتَلَفَ الْحَوَارِيُّونَ عَلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِنَّهُ دَعَاهُمْ إِلَى مِثْلِ مَا أَدْعُوكُمْ إِلَيْهِ، فَأَمَّا مَنْ قُرُبَ مَكَانُهُ فَإِنَّهُ أَجَابَ وَأَسْلَمَ، وَأَمَّا مَنْ بَعُدَ مَكَانُهُ فَكَرِهَهُ، فَشَكَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ... فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نُؤَدِّي عَنْكَ، فَابْعَثْنَا حَيْثُ شِئْتَ (المعجم الكبير للطبراني، جلد 20، صفحہ 8)۔ مسور بن مخرمہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے سامنے تقریر کی اور فرمایا کہ اللہ نے مجھ کو تمام انسانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ پس تم میری طرف سے اس ذمہ داری کو ادا کرو۔ خدا تم پر رحم کرے اور تم لوگ اختلاف نہ کرنا جس طرح عیسیٰ بن مریم کے حواریوں نے اختلاف کیا۔ انہوں نے اپنے حواریوں کو اسی چیز کے لیے پکارا جس کی طرف میں تم کو پکار رہا ہوں۔ پس جس کا مقام دور تھا اس کو وہاں جانا نا گوار ہوا۔ تو عیسیٰ بن مریم نے اللہ تعالیٰ سے اس کی شکایت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے کہا کہ اے خدا کے رسول ہم آپ کی ذمہ داری کو ادا کریں گے ۔ آپ ہم کو بھیجیے جہاں آپ چاہیں ۔ اجتماعی کام میں رکاوٹ ڈالنے والی سب سے بڑی چیز اختلاف ہے۔ مگر صحابہ کرام کو اللہ کے خوف نے اتنا بے نفس بنا دیا تھا کہ وہ اختلافات سے بلند ہو کر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں لگے رہتے تھے۔ چنانچہ رسول اللہ کے زمانے میں انہوں نے عرب میں اور اطرافِ عرب میں آپ کی منشا کے مطابق اسلام کی دعوت پوری طرح پہنچائی۔ آپ کی وفات کے بعد وہ مال و جاہ کے حصول میں نہیں پڑے بلکہ اطراف کے ملکوں میں پھیل گئے۔ ہر صحابی کا گھر اس زمانہ میں ایک چھوٹا مدرسہ بنا ہوا تھا جہاں وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے لوگوں کو عربی سکھاتے اور قرآن وسنت کی تعلیم دیتے۔ اس زمانہ میں ایک طرف مسلمانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader