مثالی کردار
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
اعتدال پر قائم رہوں، جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں، جو مجھے محروم کرے میں اسے دوں، جو مجھ پر ظلم کرے، میں اس کو معاف کردوں، اور میری خاموشی غوروفکر کی خاموشی ہو، میرا بولنا یا الہیٰ کا بولنا ہو، میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔ محض تقریر یا گفتگو کے الفاظ نہ تھے۔ یہ خود آپ کی زندگی تھی جو لفظوں کی صورت میں ڈھل رہی تھی۔ یہ حیرت انگیز حد تک مؤثر کلمات اور اس قدر پہنچی ہوئی باتیں ایک خالی انسان کی زبان سے نکل ہی نہیں سکتیں ۔ یہ الفاظ تو خود بولنے والے کا مقام بتا رہے ہیں ۔ وہ کہنے والے کے اندرون کو انڈیل رہے ہیں۔ وہ بولنے والے کی روح کو الفاظ کے آئینہ میں بے نقاب کر رہے ہیں ۔ آپ کی زندگی اگر چہ نبوت ملنے سے پہلے بھی اسی قسم کی تھی ۔ مگر وہ تمام تر فطرت کے زور پر تھی۔ اب سچائی کی دریافت نے اس کو شعور کا درجہ دے دیا۔ جو کردار اب تک طبعی تقاضے کے تحت ظاہر ہوتا تھا۔ اب وہ ایک سوچے سمجھے ذہن کا ارادی جز بن گیا۔ یہ کسی بندۂ خدا کا وہ مقام ہے جہاں دنیوی تقاضے انتہائی حد تک گھٹ کر صرف بقدر حاجت رہ جاتے ہیں۔ آدمی کی جینے کی سطح عام انسانوں سے مختلف ہو جاتی ہے۔ اس کا جسم اسی ظاہری دنیا میں ہوتا ہے مگر نفسیاتی اعتبار سے وہ ایک اور دنیا میں زندگی گزارنے لگتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق پیغمبر اسلام نے فرمایا: وَعَلَى الْعَاقِلِ مَا لَمْ يَكُنْ مَغْلُوبًا عَلَى عَقْلِهِ أَنْ تَكُونَ لَهُ سَاعَاتِ: سَاعَةٌ يُنَاجِي فِيهَا رَبَّهُ، وَسَاعَةٌ يُحَاسِبُ فِيهَا نَفْسَهُ، وَسَاعَةٌ يَتَفَكَّرُ فِيهَا فِي صُنْعِ اللَّهِ، وَسَاعَةً يَخْلُو فِيهَا لِحَاجَتِهِ مِنَ الْمَطْعَمِ وَالْمَشْرَبِ (صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361)۔ یعنی، عقلمند شخص کے لیے لازم ہے کہ اس پر کچھ گھڑیاں گزریں ایسی گھڑی جب کہ وہ اپنے رب سے باتیں کرے، ایسی گھڑی جب کہ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader