شکایات سے اوپر اٹھ کر سوچنا
Urdu book, p. 290
By Maulana Wahiduddin Khan
کا ایک طبقہ فتوحات اور سیاسی انتظامات میں لگا ہوا تھا۔ عام طریقہ کے مطابق اصحاب رسول کو اپنا سیاسی حصہ لینے میں سرگرم ہونا چاہیے تھا۔ مگر وہ اس سے بے پروا ہو گئے۔ انہوں نے اسلامی فتوحات کے ذریعہ پیدا ہونے والی فضا کو تبلیغ دین کے لیے استعمال کیا، اس طرح ان کے اور ان کے شاگردوں کے خاموش پچاس سالہ عمل کے نتیجہ میں وہ جغرافی خطہ وجود میں آیا جس کو عرب دنیا کہا جاتا ہے، جہاں لوگوں نے نہ صرف اپنے دین کو بدلا بلکہ ان کی زبان اور ان کی تہذیب بھی بدل گئی۔ پچھلی نشست پر بیٹھنے کے لیے راضی ہو جانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو سب سے پہلا مسئلہ خلیفہ کا انتخاب تھا۔ انصار بنو ساعدہ کی چو پال (سقیفہ) میں جمع ہو گئے۔ اس وقت سعد بن عبادہ انصار کے سب سے زیادہ ابھرے ہوئے سردار تھے۔ چنانچہ انصار میں بہت سے لوگوں کا یہ خیال تھا کہ سعد بن عبادہ کو خلیفہ مقرر کیا جانا چاہیے۔ مہاجرین کو یہ خبر ملی تو ان کے ممتاز افراد تیزی سے چل کر مذکورہ مقام پر پہنچے۔ حضرت ابو بکر نے تقریر کرتے ہوئے کہا: أَمَّا مَا ذَكَرْتُمْ فِيكُمْ مِنْ خَيْرٍ، فَأَنْتُمْ لَهُ أَهْلٌ، وَلَنْ تَعْرِفَ الْعَرَبُ هَذَا الْأَمْرَ إِلَّا لِهَذَا الْحَيِّ مِنْ قُرَيْشٍ، هُمْ أَوْسَطُ الْعَرَبِ نَسَبًا وَدَارًا، وَقَدْ رَضِيتُ لَكُمْ أَحَدَ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ، فَبَايِعُوا أَيَّهُمَا شِئْتُمْ (سیرۃ ابن ہشام، جلد 2، صفحہ 659)۔ یعنی، (اے انصار) تم نے اپنی جس فضیلت کا ذکر کیا ہے اس کے تم اہل ہو۔ مگر عرب اس معاملہ (امارت) کو قریش کے سوا کسی اور قبیلہ کے بارے میں نہیں جانتے۔ وہ عربوں میں نسب اور مقام کے اعتبار سے سب سے بہترین ہیں۔ میں تمہارے لیے ان دو آدمیوں (عمر اور ابو عبیدہ بن الجراح) میں سے کسی ایک پر راضی ہوں۔ تم دونوں میں سے جس سے چاہو بیعت کر لو۔ اس کے بعد حضرت عمر اٹھے اور انہوں نے فوراً حضرت ابو بکر کے ہاتھ پر خلافت کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader