اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ خدا کا یہ منصوبہ تھا کہ شرک کو مغلوب کیا جائے اور توحید کو دنیا میں غالب فکر کا مقام عطا کیا جائے (الانفال، 8:39)۔ یہ کام اتنے مختلف اسباب کی مساعدت چاہتا ہے جو صرف اللہ کے اختیار میں ہے۔ چنانچہ اللہ نے ڈھائی ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں وہ موافق حالات پیدا کیے جن کو استعمال (avail) کر کے آپ نے شرک کو مغلوب کیا اور توحید کو فکری غلبہ کے مقام پر پہنچایا۔ رسول اور اصحاب رسول کی کوششوں سے جو انقلاب آیا اس کے بعد شرک ہمیشہ کے لیے مغلوب ہو گیا۔ اب اس کی کوئی امید نہیں کہ شرک دوبارہ ایک غالب فکر کی حیثیت سے دنیا میں چھا سکے۔ تاہم موجودہ زمانہ میں دوبارہ یہ واقعہ ہوا کہ توحید نے غالب فکر کی حیثیت سے اپنا مقام کھو دیا۔ اس بار یہ واقعہ الحاد کے ہاتھوں سے ہوا۔ چنانچہ آج دنیا میں الحاد نے غالب فکر کی حیثیت حاصل کر لی ہے۔ بے خدا ذہن یا سیکولر ذہن آج دنیا کا غالب ذہن ہے۔ اس کے مقابلہ میں توحید کا ذہن عملاً دوسرے درجہ پر چلا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یقیناً معلوم تھا کہ آئندہ دور الحاد آنے والا ہے۔ اس لیے اس کی نصرت دوبارہ متحرک ہوئی۔ پچھلے ہزار سالہ عمل کے دوران اس نے دوبارہ ایسے حالات پیدا کرنے شروع کیے جو بالا آخر غلبہ توحید کی جد و جہد کے لیے موافق زمین کا کام کر سکیں۔ یہ عمل اب اپنی تکمیل کے مرحلہ میں پہنچ گیا ہے۔ آج اگر چہ بظاہر الحاد کا غلبہ ہے مگر وہ موافق حالات پوری طرح پیدا ہو چکے ہیں جن کو استعمال کر کے دوبارہ توحید کو غالب فکر کا مقام دیا جا سکے۔ 1۔ حضرت ابراہیم نے تقریباً چار ہزار سال پہلے قدیم عراق کے دار السلطنت اُر (Ur) کے لوگوں کو پکارا کہ ایک خدا ہے جو نفع و نقصان کا مالک ہے۔ خدائی میں کوئی اس کا شریک نہیں ۔ اسی لیے تم اسی سے حاجتیں مانگو اور اسی کی پرستش کرو۔ اس دعوت توحید کے خلاف اس وقت کے مشرک بادشاہ نمرود کلدانی نے اتنا سخت رد عمل ظاہر کیا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader