اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کو آگ کے الاؤ میں ڈال دیا۔ آج بھی دنیا کے ہر ملک میں شرک کا عقیدہ پایا جاتا ہے۔ لیکن آج آپ کسی ملک میں دعوتِ ابراہیمی لے کر اٹھیں تو موجودہ زمانہ کا کوئی حکمران آپ کے ساتھ اس قسم کا شدید سلوک نہیں کرے گا۔ اس کی وجہ فلسفۂ حکومت کی تبدیلی ہے۔ نمرود کے زمانہ میں شرک ایک سیاسی عقیدہ کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب کہ آج وہ صرف ایک محدود مذہبی عقیدہ ہے۔ قدیم زمانہ میں عام طور پر مشرکانہ نظریۂ سیاست دنیا میں رائج تھا۔ نمرود، دورِ قدیم کے دوسرے بادشاہوں کی طرح، اسی قسم کے نظریہ کی بنیاد پر حکومت کرتا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ سورج دیوتا کا مظہر ہے۔ اس لیے وہ دوسروں سے برتر ہے اور اس کو دوسروں کے اوپر حکمرانی کرنے کا فوق الفطری حق حاصل ہے۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ کے حکمران اس قسم کے نظریۂ حکومت سے کوئی تعلق نہیں رکھتے۔ انہوں نے عوامی رائے کی بنیاد پر اپنے لیے حکمرانی کا حق حاصل کیا ہے، نہ کہ کسی فوق الفطری عقیدہ کی بنیاد پر۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کی دعوت میں موجودہ حکمرانوں کو اپنے اقتدار کے لیے کوئی خطرہ نہیں آتا۔ جب کہ نمرود اور دورِ قدیم کے دوسرے بادشاہوں کو توحید کا عقیدہ پھیلنے میں اپنی سیاسی جڑ کٹتی ہوئی دکھائی دیتی تھی۔ قدیم زمانہ میں جب کوئی پیغمبر اٹھتا تو اکثر پہلے ہی مرحلہ میں وقت کے اقتدار سے اس کا ٹکراؤ شروع ہو جاتا اور غیر ضروری قسم کی مشکلات اس کی راہ میں حائل ہو جاتیں۔ اس کی وجہ سیاسی ادارہ کے ساتھ فوق الطبعی عقائد کی یہی وابستگی تھی۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ عوام کو یہ یقین دلا کر ان کے اوپر حکومت کرتے تھے کہ وہ دیوتاؤں کی اولاد ہیں، خدا ان کے اندر حلول کر آیا ہے۔ ایسے ماحول میں جب توحید خالص کی آواز بلند ہوتی تو ان کو نظر آتا کہ وہ ان کے سیاسی استحقاق کو بے اعتبار بنا رہی ہے۔ یہ اعتقادی پیچیدگی ان کو داعیِ حق سے ٹکرا دیتی تھی۔ اسلام نے ثابت کیا کہ ہر قسم کی فوق الفطری حیثیت صرف خدا کو حاصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader