مثالی کردار
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنی ذات کا محاسبہ کرے، ایسی گھڑی جب کہ وہ خدا کی تخلیق میں غور کر رہا ہو۔ اور ایسی گھڑی جب کہ وہ کھانے پینے کی ضرورتوں کے لیے وقت نکالے۔ گویا خدا کا وفادار بندہ وہ ہے جس کے روز و شب کے لمحات اس طرح گزریں کہ کبھی اس کی بے قراریاں اس کو خدا سے اتنا قریب کر دیں کہ وہ اپنے رب سے سرگوشیاں کرنے لگے۔ کبھی یوم الحساب میں کھڑے ہونے کا خوف اس پر اس طرح طاری ہو کہ وہ دنیا ہی میں اپنا حساب کرنے لگے۔ کبھی کائنات میں خدا کی کاریگری کو دیکھ کر وہ اس میں اتنا محو ہو کہ اس کے اندر اس کو خالق کے جلوے نظر آنے لگیں۔ اس طرح گویا خدا سے ملاقات، اپنے آپ سے ملاقات اور کائنات سے ملاقات میں اس کے لمحات گزر رہے ہوں۔ اور بدرجہ حاجت وہ کسی وقت کھانے پینے کے لیے بھی اپنے کو فارغ کر لیا کرے۔ یہ الفاظ دور کے کسی انسان کا تعارف نہیں ہیں۔ اس میں خود پیغمبر اسلام کی اپنی شخصیت بول رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے ظاہری جسم کے اندر جو مومنانہ روح تھی اس میں ہر وقت کس قسم کے طوفان اٹھتے رہتے تھے۔ آپ کی زندگی کس قسم کی ''ساعات‘‘ کے درمیان گزر رہی تھی حقیقت یہ ہے کہ جو شخص خود ان گھڑیوں کا تجربہ کر رہا ہو، وہ کبھی اتنے اعلیٰ الفاظ میں اس بات کو بیان ہی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک ایسی روح سے نکلے ہوئے کلمات ہیں جس نے ان کیفیات کو خود کمال درجہ میں پایا تھا جس کو وہ لفظوں کے ذریعہ دوسروں پر کھول رہا تھا۔ پیغمبر اسلام کو وحی خداوندی ملنے سے پہلے، موجودہ دنیا اپنی کمیوں اور محدودیتوں کے ساتھ بے معنی معلوم ہوتی تھی۔ مگر جب آپ پر خدا نے اس حقیقت کو کھولا کہ اس دنیا کے سوا ایک اور دنیا ہے جو کامل اور ابدی ہے اور وہی انسان کی اصلی قیام گاہ ہے، تو زندگی اور کائنات دونوں آپ کے لیے بامعنی ہو گئے۔ اب آپ نے زندگی کی وہ سطح پالی جہاں آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader