اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں
Urdu book, p. 300
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ اس نے اعلان کیا کہ تمام انسان برابر ہیں، ایک کو دوسرے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں۔ اس طرح اسلام نے سیاسی ادارہ کو اعتقادیات سے جدا کر دیا۔ اب حکومت کرنے کا حق کسی کو عوامی رائے سے ملتا تھا، نہ کہ خدا سے کسی قسم کے پراسرار رشتہ کی بنیاد پر۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے قدیم زمانہ میں کچھ لوگ یہ بات مشہور کر کے اپنا طبی کاروبار چلاتے تھے کہ انہوں نے ایک جن کو مسخر کر رکھا ہے اور وہ ان کے پاس آکر ان کو فن طب کے رموز بتاتا جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر کوئی شخص یہ آواز بلند کرے کہ علم طب میڈیکل کالج میں سکھایا جاتا ہے نہ کہ جنات کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے تو مذکورہ قسم کے طبیب ایسے شخص کے سخت مخالف ہو جائیں گے۔ مگر موجودہ زمانہ کے ایم بی بی ایس ڈاکٹر کو ایسی تحریک سے کوئی عداوت نہ ہوگی۔ 2۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے انقلاب کے ذریعہ تاریخ کا رخ موڑنے کا عمل ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوا تھا۔ اب وہ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔ دین کے داعیوں کے لیے اب خود انسانی اسلحہ خانہ میں ہر قسم کے تائیدی اسباب موجود ہیں۔ جدید قانونی اور سماجی تبدیلیوں نے اب اس کا موقع دے دیا ہے کہ دعوت دین کا کام کھلے طور پر کیا جائے اور کوئی فرعون یا نمرود اس کا راستہ روکنے کے لیے میدان میں موجود نہ ہو۔ حقائق کی دنیا جواب انسان کے علم میں آئی ہے اس نے ایسے دلائل جمع کر دیے ہیں، جو دین کی صداقت کو خالص علمی طور پر ثابت شدہ بناسکیں۔ موجودہ زمانہ میں ایک عظیم فکری انقلاب آیا ہے۔ یہ انقلاب وہی ہے جس کو عام طور پر سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ جدید سائنسی انقلاب نے انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسی فکری تبدیلیاں پیدا کی ہیں جو دعوت توحید کے عین موافق ہیں۔ ان کو مناسب طور پر استعمال کیا جائے تو صرف قلمی اور لسانی تبلیغ کے ذریعہ غلبہ توحید کا وہ مقصد حاصل کیا جاسکتا ہے جس کے لیے پچھلے زمانوں میں تلوار اٹھانی پڑتی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader