اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنسی انقلاب زمانۂ رسالت کے اسلامی انقلاب کا ایک ضمنی حاصل (by-product) ہے۔ اللہ نے پیغمبر آخر الزماں کے لائے ہوئے انقلاب کے ذریعہ ایسے اسباب پیدا کیے، جنہوں نے تاریخ کے اندر اپنا عمل شروع کیا۔ تبدیلی کا یہ عمل مسلسل جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ اس انقلاب تک پہنچا جس کو جدید سائنسی انقلاب کہا جاتا ہے۔ گویا خدا نے صدر اول میں شرک کے اوپر توحید کو غلبہ دیا تو اسی کے اندر وہ اسباب بھی پیدا کر دیے جو بعد کے زمانہ میں الحاد پر توحید کو غالب کرنے میں مددگار بن سکیں۔ اسلام کے ذریعہ آنے والے توحیدی انقلاب سے پہلے ساری دنیا میں شرک کا غلبہ تھا۔ شرک دراصل مظاہر پرستی کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کی ہر چیز، جو نمایاں نظر آئی اسی کو انسان نے پوچھنا شروع کر دیا ۔ خواہ وہ آسمان کا سورج ہو یا زمین کا بادشاہ۔ اس وجہ سے دور شرک میں سائنسی تحقیق کا کام ممکن نہ ہوسکا۔ آرنلڈ ٹوائن بی (1975-1889ء) کے الفاظ میں، فطرت کے مظاہر اس وقت پرستش کا موضوع (object of worship) بنے ہوئے تھے، پھر وہ تحقیق کا موضوع (object of investigation) کیسے بنتے۔ اسلام نے شرک کو مغلوب کر کے توحید کو غالب کیا تو ایک خدا کے سوا ہر چیز مخلوق نظر آنے لگی، اس انقلاب نے یہ ممکن بنا دیا کہ چیزوں پر تحقیق کا عمل جاری کیا جا سکے۔ یہ عمل ابتدائی صورت میں دور اول ہی میں شروع ہو گیا تھا۔ ایک بار چاند گرہن کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ وہ کسی بڑے آدمی کی پیدائش یا موت کی بنا پر نہیں ہوتے۔ اس طرح آپ نے مادی بڑائی کی بھی نفی کر دی اور انسانی بڑائی کی بھی۔ یہ فکری لہر عقیدہ سے الگ ہو کر یورپ پہنچی اور بالآخر جدید انقلاب کا سبب بنی۔ 1۔ اس انقلاب کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ توہماتی دور کا خاتمہ ہو گیا۔ توہم پرستی کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader