اظہارِ رسالت عہدِ حاضر میں
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
تو ہم پرستی نام ہے حقائق کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کے بجائے مفروضات و قییاسات کی بنیاد پر رائے قائم کرنے کا۔ مثلاً یہ فرض کر لینا کہ جب کسی بڑے آدمی کی موت ہوتی ہے تو سورج یا چاند گہنا جاتے ہیں۔ یہ ذہن اسلام کی طرف بڑھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ایسا آدمی حقائق واقعی کی بنیاد پر اسلام اور غیر اسلام کا جائزہ نہیں لیتا بلکہ پیشگی مفروضات کی بنیاد پر بلا دلیل ایک کو صحیح اور دوسرے کو غلط مان لیتا ہے۔ مثلاً اسلام تاریخی طور پر ایک مستند دین ہے اور دیگر تمام مذاہب تاریخی استناد سے محروم ہیں۔ مگر تو ہمات کے دور میں انسان اس کو اہمیت نہیں دے پاتا تھا۔ جدید دور نے اس کو پوری اہمیت کے ساتھ لیا۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں تنقید عالیہ (higher criticism) کے نام سے ایک مستقل فن وجود میں آگیا ہے۔ اس فن کے تحت یہ حقیقت پوری طرح مسلم ہوگئی ہے کہ تاریخی طور پر معتبر دین صرف اسلام ہے۔ دوسرے ادیان کو تاریخی اعتبار یت کا درجہ حاصل نہیں۔ 2۔ سائنسی ذہن نے کائنات کو تجربہ اور مشاہدہ کی روشنی میں جاننے کی کوشش کی۔ اس کے نتیجہ میں کائنات میں چھپے ہوئے ایسے فطری حقائق انسان کے علم میں آئے جو اسلام کی تعلیمات کی تصدیق کی اعلیٰ سطح پر کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انسان کی تحقیق نے بتایا کہ کائنات میں ہر جگہ ایک ہی قانون فطرت کارفرما ہے۔ جو قانون زمین کے احوال پر حکمراں ہے وہی قانون کائنات کے دور دراز مقامات پر بھی حکمراں ہے۔ اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس کائنات کا خدا صرف ایک ہے۔ دو خدا یا بہت سے خداؤں کی اس کائنات میں گنجائش نہیں۔ 3۔ دین توحید کو قدیم زمانہ میں اختیار کرنے کے لیے، ایک علمی رکاوٹ، قدیم فلسفہ بھی تھا۔ قدیم زمانہ میں فلسفہ کو غالب علم کا مقام حاصل تھا۔ تعلیم یافتہ طبقہ کے سوچنے کی ذہنی زمین اس زمانہ میں فلسفہ ہوتا تھا۔ اس کے نتیجہ میں دین توحید کی راہ میں ایک بہت بڑی مصنوعی رکاوٹ حائل ہو گئی تھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader