مثالی کردار
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
جی سکتے تھے، جس میں آپ اپنا دل لگا سکتے تھے۔ اب آپ کو ایسی حقیقی دنیا مل گئی جس سے اپنی امیدوں اور تمناؤں کو وابستہ کر سکیں جس کے پیش نظر اپنی زندگی کی منصوبہ بندی کریں۔ یہی مطلب ہے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب اس حدیث کا کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے (الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَةِ) المقاصد الحسنۃ، حدیث نمبر 497۔ اس احساس کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کو آج کل کی اصطلاح میں آخرت رخی زندگی (Akhirat-Oriented Life) کہا جا سکتا ہے۔ ایسا آدمی، اپنے تصور حیات کے لازمی نتیجہ کے طور پر، آخرت کو اپنا اصل مسئلہ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اس سے باخبر ہو جاتا ہے کہ دنیا ہماری منزل نہیں، وہ صرف راستہ ہے۔ وہ آخرت کے مستقبل کی تیاری کا ایک ابتدائی مرحلہ ہے۔ جس طرح ایک دنیا پرست آدمی کی تمام سرگرمیاں دنیوی مصالح کے گرد گھومتی ہیں، اسی طرح ایک بندہ خدا کی پوری زندگی کا رخ آخرت کی طرف ہو جاتا ہے۔ ہر معاملہ میں اس کا رویہ اس فکر کے تحت بنتا ہے کہ آخرت میں اس کا انجام کیا ہوگا؟ خوشی ہو یا غم، کامیابی ہو یا ناکامی، محکومی کی حالت ہو یا غلبہ کی، تعریف کی جارہی ہو یا تنقید، غصہ کا موقع ہو یا محبت کا ہر حال میں آخرت کا خیال اس کا رہنما بنا رہتا ہے۔ حتی کہ وہ وقت آتا ہے جب کہ آخرت کی فکر اس کے لاشعور کا جزءِ بن جاتا ہے۔ اگرچہ اب بھی وہ بشریت سے خالی نہیں ہوتا۔ مگر اس کا ذہن ان ہی امور میں چلتا ہے جو آخرت سے تعلق رکھنے والے ہوں ۔ جن باتوں میں آخرت کا کوئی پہلو نہ ہو ان سے اس کی دلچسپیاں اتنی کم ہو جاتی ہیں کہ بعض اوقات اس کو کہنا پڑتا ہے : أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2363)۔ یعنی تم اپنے دنیا کے معاملے کو مجھ سے زیادہ جانتے ہو۔ اس حقیقت کی حیثیت محض ایک علمی دریافت کی نہیں۔ اس کو پانے کے بعد آدمی کی جینے کی سطح بدل جاتی ہے آدمی کچھ سے کچھ ہو جاتا ہے۔ اس کی بہترین مثال خود پیغمبر اسلام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader