ہیروؤں کی نرسری
Urdu book, p. 309
By Maulana Wahiduddin Khan
دنیا میں اسلام کا غلبہ ایک کامل فکری نظام کے مقابلہ میں دوسرے کامل فکری نظام کا غلبہ ہے۔ یہ تاریخ کا مشکل ترین منصوبہ ہے جس کو وقوع میں لانے کے لیے ’’ہیروزوں کی نرسری‘‘ درکار ہے۔ قدیم دورِ شرک میں اسلام کا غلبہ ہیروزوں کی نرسری کے ذریعہ انجام پایا تھا۔ اب دورِ الحاد میں اسلام کا غلبہ دوبارہ ہیروزوں کی ایک نرسری کے ذریعہ انجام پائے گا۔ قانونِ قدرت کے مطابق جو شرط پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کے لیے ضروری تھی وہ بعد کے لوگوں کے لیے آخر کس طرح ساقط ہو جائے گی۔ زمانۂ رسالت کے مسلمانوں نے دین کو زندہ کرنے کے لیے جدوجہد کی تھی۔ اسی طرح موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے بھی دین کو زندہ کرنے کے نام پر زبردست کوششیں کی ہیں۔ اگر مجرد ظاہری مقدار کے پہلو سے دیکھا جائے تو موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی کوششیں دورِ اول کے مسلمانوں کی کوششوں سے کم نہیں ہیں، بلکہ کچھ زیادہ بڑھی ہوئی ہیں۔ جان کی قربانی، مال و دولت کا خرچ، زبان وقلم کا استعمال، زمین میں دوڑ دھوپ، یہ سب چیزیں مسلمانوں کی حالیہ جدوجہد میں اتنی زیادہ دکھائی دیتی ہیں کہ خالص مقدار کے اعتبار سے وہ ماضی سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔ مگر جہاں تک نتیجہ کا تعلق ہے، دونوں کے درمیان کوئی نسبت نہیں۔ ماضی کی اسلامی کوششوں نے تاریخ کے دھارے کو بدل دیا تھا۔ جب کہ موجودہ زمانہ کی کوششوں نے صرف ہماری بربادی میں اضافہ کیا ہے۔ یہ فرق اس نفسیاتی فرق کی وجہ سے ہے جو دونوں کے درمیان پایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ زمانۂ رسالت کے مسلمانوں کو احساسِ یافت نے ابھارا تھا اور موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو احساسِ محرومی نے ابھارا ہے۔ زمانۂ رسالت کے مسلمان کس نفسیات کے تحت ابھرے تھے، اس کی ایک کامیاب تصویر اس تقریر میں ملتی ہے جو حضرت جعفر بن ابی طالب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader