ہیروؤں کی نرسری
Urdu book, p. 310
By Maulana Wahiduddin Khan
نے شاہ حبش نجاشی کے دربار میں کی تھی۔ اس تقریر کے مطابق اسلام ان لوگوں کے لیے جاہلی زندگی کے مقابلہ میں شعوری زندگی اختیار کرنے کے ہم معنی تھا۔ انہوں نے شرک کے مقابلہ میں توحید کو دریافت کیا تھا۔ انہوں نے بے رہنمائی کے مقابلہ میں پیغمبرانہ رہنمائی کو پایا تھا۔ انہوں نے دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو پایا تھا۔ انہوں نے بے قید اخلاقیات کے مقابلہ میں ذمہ دارانہ اخلاقیات کو پایا تھا۔ انہوں نے ظلم کے مقابلہ میں عدل وانصاف کو پایا تھا۔ مگر جہاں تک موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا تعلق ہے ان کا معاملہ سراسر اس سے مختلف ہے۔ زمانہ رسالت کے مسلمانوں کے جذبات میں اس احساس نے ہیجان برپا کیا تھا کہ ’’ہم نے پایا ہے‘‘۔ اس کے برعکس، موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے اندر جس چیز نے ہیجان برپا کیا وہ صرف یہ احساس تھا کہ ہم نے کھویا ہے: گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی ثریا سے زمیں پر آساں نے ہم کو دے مارا موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام تحریکیں اسی محرومی اور مظلومی کے احساس کے تحت ابھری ہیں۔ ایک اور دوسری تحریک میں اگر کوئی فرق ہے تو صرف یہ کہ ایک اس کو سادہ انداز میں بیان کررہی ہے اور دوسری مفکرانہ انداز میں۔ کسی کے یہاں قومی الفاظ بولے جارہے ہیں اور کسی کے یہاں مذہبی الفاظ۔ یونانی فلسفی ارشمیدس(Archimedes, d. 212 BC) نے کشش ثقل کا ایک قانون، بائنسی (law of buoyancy) دریافت کیا تھا۔ اس کے بعد وہ اتنا سرشار ہوا گویا اس نے سب کچھ پالیا ہے۔ شاہ ایران محمدرضا پہلوی (1980-1919ء) نے صرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader