Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

ہیروؤں کی نرسری

Urdu book, p. 311

By Maulana Wahiduddin Khan

حکومت کھوئی۔ مگر ان کا یہ حال ہوا گویا انہوں نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ دریافت ہو یا محرومی، دونوں کی نفسیات یہ ہے کہ آدمی اسی چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دینے لگتا ہے جس کو اس نے پایا ہے یا جس کو اس نے کھو دیا ہے۔ اس نفسیات کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ’’دریافت‘‘ آدمی کی فکری قوتوں کو پوری طرح جگادیتی ہے۔ وہ کامل طور پر ایک زندہ انسان بن جاتا ہے۔ اس کے حوصلوں کی کوئی انتہا نہیں رہتی۔ اس کے برعکس جب کسی آدمی پر’’محرومی‘‘کا احساس چھاتا ہے تو اس کی ذہنی اور عملی قوتیں ٹھپ ہو کر رہ جاتی ہیں۔ بظاہر زندہ ہونے کے باوجود اندر سے وہ ایک مردہ انسان بن جاتا ہے۔ دور قدیم میں ہمارے اسلاف احساس یافت پر ابھرے تھے اس لیے ان کی بیداری اس نوبت تک پہنچی کہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ موجودہ زمانہ میں ہماری نسلیں احساس محرومی پر ابھری ہیں۔ چنانچہ ان کی بے شعوری اور پست حوصلگی اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ تاریخ میں شاید اس کی بھی کوئی دوسری مثال نہیں ملے گی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یافت کے جذبہ سے مثبت اخلاقیات ابھرتی ہیں اور محرومی کے جذبہ سے منفی اخلاقیات۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ دور اول کے مسلمانوں کے لیے ان کا اسلام ان کے اندر اعلیٰ کردار پیدا کرنے کا ذریعہ بن گیا تھا۔ وہ حق کے آگے جھک جاتے تھے۔ وہ دوسروں کا اعتراف کرنا جانتے تھے۔ وہ جو کچھ کہتے تھے وہی عملاً کرتے تھے۔ وہ لوگوں کو معاف کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ وہ شکایتوں کو نظر انداز کر کے لوگوں کے ساتھ معاملہ کر سکتے تھے۔ وہ جذبات سے ہٹ کر خالص عقلی فیصلہ لینے کی طاقت رکھتے تھے۔ وہ ردعمل کی نفسیات سے پاک ہو کر سوچنا جانتے تھے۔ منفی احساسات، اس کے برعکس، منفی اخلاقیات پیدا کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page