Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مثالی کردار

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

کی ذات ہے۔ آپ کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ جب تک جینے کی سطح نہ بدلے، عمل کی سطح نہیں بدل سکتی۔ پیغمبرِ اسلام نے جب یہ حقیقت پائی تو وہ ان کی پوری زندگی کا سب سے بڑا کنسرن بن گئی۔ جس جنت کی خبر آپ دوسروں کو دے رہے تھے، اس کے آپ خود سب سے زیادہ حریص بن گئے اور جس جہنم سے دوسروں کو ڈرا رہے تھے، اس سے آپ خود سب سے زیادہ ڈرنے لگے۔ آپ کا یہ اندرونی طوفان بار بار دعا اور استغفار کی صورت میں آپ کی زبان سے ظاہر ہوتا رہتا تھا۔ آپ کی جینے کی سطح عام انسانوں سے کس طرح مختلف تھی اس کا اندازہ چند واقعات سے ہوگا۔ ایک واقعہ حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آیا ہے: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي بَيْتِهَا، فَدَعَا وَصِيفَةً لَهُ - أَوْ لَهَا - فَأَبْطَأَتْ، فَاسْتَبَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، فَقَامَتْ أُمُّ سَلَمَةَ إِلَى الْحِجَابِ، فَوَجَدَتِ الوَصِيفَةَ تَلْعَبُ، وَمَعَهُ سِوَاكُ، فَقَالَ: لَوْلَا خَشْيَةُ الْقَوَدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، لَأَوْجَعْتُكَ بِهَذَا السِّوَاكِ (الآدب المفرد، حدیث نمبر 184)۔ یعنی، ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں تھے آپ نے خادمہ کو بلایا۔ اس نے آنے میں دیر کی۔ آپ کے چہرہ پر غصہ ظاہر ہوگیا۔ ام سلمہ نے پردہ کے پاس جا کر دیکھا تو خادمہ کو کھیلتے ہوئے پایا۔ اس وقت آپ کے ہاتھ میں ایک مسواک تھی۔ آپ نے خادمہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اگر قیامت کے دن مجھے بدلہ کا ڈر نہ ہوتا تو میں تجھ کو اس مسواک سے مارتا۔ بدر کی جنگ (رمضان 2ھ) کے بعد جو لوگ قیدی بن کر آئے، وہ آپ کے بدترین دشمن تھے۔ مگر آپ نے ان کے ساتھ بہترین سلوک کیا۔ ان قیدیوں میں ایک شخص

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page