مثالی کردار
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
سہیل بن عمرو تھا جو آتش بیان خطیب تھا اور تمام مجمُوعوں میں آپ کے خلاف بیہودہ تقریریں کیا کرتا تھا۔ عمر فاروق نے رائے دی کہ اس کے نیچے کے دو دانت اکھاڑ دیے جائیں تا کہ آئندہ کے لیے اس کا تقریر کا جوش ختم ہو جائے۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا: لَا أُمَثِّلُ بِهِ فَيُمَثِّلُ اللَّهُ بِي وَإِنْ كُنْتُ نَبِيًّا (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 649)۔ یعنی میں اس کا چہرہ نہیں بگاڑوں گا، ورنہ خدا میرا چہرہ بگاڑ دے گا، اگرچہ میں خدا کا رسول ہوں۔ پیغمبر اسلام عام انسانوں کی طرح ایک انسان تھے۔ خوشی کی بات سے آپ کو خوشی ہوتی تھی اور غم کی بات سے آپ غمگین ہوتے تھے۔ مگر آپ کی عبدیت آپ کو خدا کے مقرر کیے ہوئے دائرہ سے باہر نہیں جانے دیتی تھی۔ پیغمبر اسلام کی آخر عمر میں مار یہ قبطیہ سے ایک لڑکا پیدا ہوا۔ یہ لڑکا خوبصورت اور تندرست تھا۔ اس کا نام آپ نے اپنے بزرگ ترین جد امجد کے نام پر ابراہیم رکھا۔ ابو رافع نے جب ابراہیم کی پیدائش کی خبر دی تو آپ اتنا خوش ہوئے کہ ابو رافع کو ایک غلام انعام میں دے دیا۔ آپ ابراہیم کو گود میں لے کر کھلاتے اور پیار کرتے۔ عرب قاعدہ کے مطابق ابراہیم کو ایک دایہ ام بردہ بنت المنذر بن زید انصاری کے حوالے کیا گیا تا کہ وہ دودھ پلائیں۔ یہ دایہ ایک لوہار کی بیوی تھیں۔ ان کے چھوٹے سے گھر میں اکثر بھٹی کا دھواں ہوتا رہتا۔ آپ لڑکے کو دیکھنے کے لیے لوہار کے گھر جاتے اور وہاں دھواں آپ کی آنکھ اور ناک میں گھستا رہتا اور آپ انتہائی نازک طبع ہونے کے باوجود اس کو برداشت کرتے۔ ابراہیم ابھی ڈیڑھ سال کے ہوئے تھے کہ ہجرت کے دسویں سال (جنوری 632ء) میں ان کا انتقال ہو گیا۔ آپ بیٹے کی موت کو دیکھ کر رونے لگے۔ ان واقعات میں پیغمبر اسلام ایک عام انسان کی طرح نظر آتے ہیں۔ ان کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader