مثالی کردار
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
جذبات ، ان کی حسرتیں ویسی ہی ہیں جیسی ایک عام باپ کی ہوتی ہیں۔ مگر اس کے باوجود خدا کا دامن آپ کے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں پاتا۔ آپ غم زدہ ہیں مگر زبان سے نکل رہا ہے: تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبَّنَا، وَاللَّهِ يَا إِبْرَاهِيمُ إِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ (صحيح مسلم، حدیث نمبر 2315)۔ یعنی آنکھ رو رہی ہے، دل دکھی ہے، مگر ہم وہی بات کہیں گے جو ہمارے رب کو پسند ہو، خدا کی قسم اے ابراہیم ہم تمہاری موت سے غمگین ہیں۔ جس دن ابراہیم کا انتقال ہوا۔ اتفاق سے اسی دن سورج گرہن پڑا۔ قدیم زمانہ میں اعتقاد تھا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن کسی بڑے آدمی کی موت سے ہوا کرتے ہیں۔ اس کے اثر سے مدینہ کے مسلمان کہنے لگے کہ یہ سورج گرہن پیغمبر کے بیٹے کی موت کی وجہ سے ہوا ہے۔ آپ کو یہ بات بہت ناپسند ہوئی۔ کیوں کہ یہ انسان کی عاجزانہ حیثیت کے خلاف تھی ۔ آپ نے لوگوں کو جمع کر کے تقریر کی، آپ نے فرمایا: إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَصَلُّوا (صحيح البخاری، حدیث نمبر 1042)۔ یعنی، سورج چاند میں کسی انسان کی موت اور زندگی سے گہن نہیں لگتا۔ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ جب تم ایسا دیکھو تو نماز پڑھو۔ آپ کا ایک واقعہ تاریخ ان لفظوں میں بتاتی ہے: وَكَانَ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فِي بعض أَسْفَاره فَأمر بإصلاح شاه، فَقَالَ رجل: يَا رَسُول الله عَليَّ ذَبْحَهَا، وَقَالَ آخَر: عَليَّ سلخها، وَقَالَ آخر: عَليَّ طبخها، فقال صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: وَعلي جمع الحطب، فقالوا: يَارَسُول الله نحن نكفيك، فَقَالَ: قد علمت أنكم تكفوني ولكني أكره أن أتميز عَلَيْكُم فإن الله يكره من عبده أن يَراه متميزا بين أصحابه (خلاصہ سیر سید البشر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader