مثالی کردار
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
محب الدین الطبری، صفحہ 87)۔ یعنی، ایک بار آپ سفر میں تھے۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے ایک بکری تیار کرنے کا حکم دیا۔ ایک شخص بولا: میں اس کو ذبح کروں گا۔ دوسرے نے کہا میں اس کی کھال اتاروں گا۔ تیسرے نے کہا، میں اس کو پکاؤں گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں لکڑی جمع کروں گا۔ لوگوں نے کہا، اے خدا کے رسول، ہم سب کام کر لیں گے۔ آپ نے فرمایا، میں جانتا ہوں کہ تم لوگ کر لو گے۔ مگر میں امتیاز کو پسند نہیں کرتا۔ اللہ کو یہ پسند نہیں کہ اس کا کوئی بندہ اپنے ساتھیوں کے درمیان امتیاز کے ساتھ رہے۔ آپ کی عبدیت کا یہ حال تھا کہ آپ نے فرمایا: وَاللَّهِ مَا أَدْرِي، وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ، مَا يُفْعَلُ بِي وَلَا بِكُمْ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 7018 )۔ یعنی خدا کی قسم میں نہیں جانتا، اگرچہ میں خدا کا رسول ہوں، کیا کیا جائے گا میرے ساتھ اور کیا کیا جائے گا تمہارے ساتھ۔ ابوذرغفاری بتاتے ہیں۔ ایک روز میں ایک مسلمان (صحابی) کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ان کا رنگ کالا تھا۔ کسی ضرورت سے میں نے ان کو خطاب کیا تو میری زبان سے نکل گیا: یا ابن السوداء (اے کالے رنگ والی عورت کے بیٹے)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو سخت ناپسند کیا اور فرمایا: طف الصاع طف الصاع (پیمانہ پورا بھر، پیمانہ پورا بھر)۔ یعنی سب کو ایک پیمانہ سے دو۔ ایسا نہ کرو کہ کسی کو اچھے الفاظ کے ساتھ خطاب کرو اور کسی کو برے الفاظ کے ساتھ۔ انسان اور انسان کے درمیان امتیاز نہ کرو۔ پھر آپ نے فرمایا: ليس لا بن البيضاء على ابن السوداء فضل (کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فضیلت نہیں)۔ ابو ذر غفاری کو اس تنبیہ کے بعد فی الفور اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ وہ شدت خوف سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader