Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مثالی کردار

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

زمین پر لیٹ گئے اور اس شخص سے کہا: قُمْ فَطَأْ عَلَى خَدِّي (کھڑا ہو اور میرے چہرے کو اپنے پیروں سے مسل دے) تخریج احادیث احیاء علوم الدین، حدیث نمبر 3226۔ ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مال دار مسلمان کو دیکھا کہ وہ اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک غریب مسلمان سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنے کپڑے سمیٹ رہا ہے۔ آپ نے فرمایا: أَخَشِیتَ یا فُلَانُ أَنْ یَعْدُو غِنَاکَ عَلَيْهِ، وَأَنْ یَعْدُو فَقْرُهُ عَلَيْكَ؟ (الزهد لاحمد بن حنبل، حدیث نمبر 207)۔ اے فلاں، کیا تم ڈرتے ہو کہ تمھاری مالداری اس کو مل جائے گی، اور اس کی غریبی تم کو لپٹ جائے گی۔ مدینہ میں با قاعدہ اسلامی حکومت قائم ہو چکی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ذمہ دار اعلیٰ ہیں۔ اس زمانہ میں آپ کو ایک بار ایک یہودی سے قرض لینے کی ضرورت پیش آئی جس کا نام زید بن سعنہ تھا۔ قرض کی ادائیگی کے لیے جو مدت طے ہوئی تھی، ابھی اس میں چند دن باقی تھے کہ یہودی تقاضا کرنے کے لیے آ گیا۔ اس نے آپ کے کندھے کی چادر اتار لی اور کرتا پکڑ کر سختی سے بولا: "میرا قرض ادا کرو۔" پھر کہنے لگا "عبد المطلب کی اولاد بڑی ناد ہند ہے"۔ حضرت عمر اس وقت آپ کے ساتھ تھے۔ یہودی کی بدتمیزی پر ان کو سخت غصہ آیا۔ انہوں نے اس کو ڈانٹا۔ قریب تھا کہ اس کو مارنا شروع کر دیں، مگر پیغمبر اسلام نے فرمایا: يَا عُمَرُ أَنَا وَهُوَ كُنَّا إِلَى غَيْرِ هَذَا مِنْكَ أَحْوَجَ، أَنْ تَأْمُرَنِي بِحُسْنِ الْقَضَاءِ، وَتَأْمُرَهُ بِحُسْنِ التَّقَاضِي (عمر! میں اور یہ یہودی تم سے ایک اور برتاؤ کے زیادہ ضرورت مند تھے، مجھ سے تم بہتر ادائیگی کے لیے کہتے اور اس سے بہتر تقاضے کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page