Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مثالی کردار

Urdu book, p. 37

By Maulana Wahiduddin Khan

لیے)۔ پھر آپ نے کہا: ابھی تو وعدہ میں تین دن باقی ہیں (أَمَّا إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ مِنْ أَجَلِهِ ثَلَاثٌ) پھر عمر فاروق سے فرمایا کہ جاؤ اس کا قرض ادا کر دو۔ اور 30 صاع زیادہ دینا، کیونکہ تم نے اسے جھڑکاتھا (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر 2237)۔ پیغمبر اسلام کو اپنی زندگی میں اتنی کامیابی ہوئی کہ آپ عرب سے لے کر فلسطین تک کے علاقہ کے حکمراں بن گئے۔ رسول اللہ ہونے کی وجہ سے آپ کی زبان قانون کا درجہ رکھتی تھی۔ آپ ایسے لوگوں کے درمیان تھے جو آپ کی عقیدت و تعظیم اتنی زیادہ کرتے تھے جو کبھی کسی انسان کی نہیں کی گئی۔ حدیبیہ کی بات چیت کے موقع پر عروہ بن مسعود قریش کے سفیر کی حیثیت سے آئے تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ جب آپ وضو کرتے ہیں تو لوگ دوڑ پڑتے ہیں کہ آپ کے وضو کا پانی زمین پر گرنے سے پہلے ہاتھ پر لے لیں اور اس کو تبرک کے طور پر جسم پر ملیں (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ انتہائی محبت کے باوجود ہم لوگ آنکھ بھر کر آپ کو نہیں دیکھ سکتے تھے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 121)۔ یہی معاملہ دوسرے صحابہ کا بھی تھا۔ انس کہتے ہیں کہ کسی صحابی کو آپ کی رہائش گاہ پر دستک دینے کی ضرورت ہوتی تو وہ ناخن سے دروازہ کھٹکھٹاتا تھا (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 8436)۔ جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سرخ چادر اوڑھ کر چاندنی رات میں سورہے تھے۔ میں کبھی چاند کو دیکھتا اور کبھی آپ کو۔ بالآخر میں نے یہی فیصلہ کیا کہ آپ چاند سے زیادہ خوش نما ہیں (فَبِأَذَا هُوْ عِنْدِي أَحْسَنُ مِنَ الْقَمَرِ) سنن الترمذی، حدیث نمبر 2811۔ حنین میں جب جنگ کے شروع میں مسلم فوج کو شکست ہوئی اور مخالف فوج نے آپ کے اوپر تیروں کی بارش شروع کر دی تو آپ کے ساتھیوں نے آپ کو گھیرے میں لے لیا وہ سارے تیر اپنے ہاتھ اور جسم پر اس طرح روکتے رہے جیسے وہ انسان نہیں،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page