مثالی کردار
Urdu book, p. 38
By Maulana Wahiduddin Khan
لکڑی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض ساتھیوں کا یہ حال ہوا کہ ان کے جسم پر ساہی (porcupine) کے کانٹے کی طرح تیر لٹکنے لگے تھے۔ اس قسم کا مرتبہ اور عقیدت آدمی کے مزاج کو بگاڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے کو دوسروں سے بڑا سمجھنے لگتا ہے۔ مگر آپ لوگوں کے درمیان بالکل عام انسان کی طرح رہتے۔ کوئی تلخ تنقید یا اشتعال انگیز رویہ آپ کو آپے سے باہر کرنے والا ثابت نہ ہوتا۔ صحیحین میں حضرت انس سے منقول ہے کہ ایک دیہاتی آیا۔ اس نے آپ کی چادر کو زور سے کھینچا جس کی وجہ سے آپ کی گردن میں نشان پڑ گیا۔ پھر بولا: "محمد! میرے یہ دو اونٹ ہیں۔ ان کی لاد کا سامان مجھے دو۔ کیوں کہ جو مال تیرے پاس ہے، وہ نہ تیرا ہے، نہ تیرے باپ کا ہے۔" آپ نے فرمایا مال تو اللہ کا ہے، اور میں اس کا بندہ ہوں۔ پھر دیہاتی سے پوچھا "جو برتاؤ تم نے مجھ سے کیا، اس پر تم ڈرتے نہیں"۔ وہ بولا نہیں ۔ آپ نے پوچھا کیوں۔ اس نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ تم برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے (لأنك لا تكافئ بالسيئة السيئة) ۔ آپ یہ سن کر ہنس پڑے اور حکم دیا کہ دیہاتی کو ایک اونٹ بھر جو دیا جائے اور دوسرے پر کھجوریں دی جائیں ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3149 ، الشفاء للقاضی عیاض، جلد 1، صفحہ 26-225 )۔ آپ پر خدا کی ہیبت اتنی طاری رہتی کہ آپ بالکل عجز اور بندگی کی تصویر بنے رہتے تھے۔ بہت کم بولتے، چلتے تو جھک کر چلتے، تنقید سے کبھی خفا نہ ہوتے۔ کپڑا پہنتے تو فرماتے کہ میں خدا کا بندہ ہوں اور بندوں کی طرح لباس پہنتا ہوں (اِنَّمَا اَنَا عَبْدٌ اَلْبَسُ كَمَا يَلْبَسُ الْعَبْدُ) المغنی عن حمل الأسفار للعراقی، حدیث نمبر 2465۔ کھانا کھاتے تو ادب کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے اور فرماتے کہ میں عام انسان ہوں ، اور عام انسانوں کی طرح کھانا کھاتا ہوں (إِنَّمَا أَنَا عَبْدٌ آكُلُ كَمَا يَأْكُلُ الْعَبْدُ) مسند البزار، حدیث نمبر 5752۔ اس معاملہ میں آپ کی حساسیت (sensitivity) کا عالم یہ تھا کہ آپ کے ایک ساتھی نے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک بار کہا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader