مثالی کردار
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
يَارَسُولَ اللَّهِ مَا شَاءَ اللَّهُ وَ شِئْتَ (اے اللہ کے رسول! جو اللہ چاہے اور جو آپ چاہیں)۔ یہ سنتے ہی آپ کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے درشتی کے ساتھ فرمایا: جَعَلْتَنِي لِلَّهِ عِدْلًا (تم نے مجھے اللہ کے برابر کر دیا)۔ تم کو اس طرح کہنا چاہیے: مَا شَاءَ اللَّهُ وَحْدَهُ (وہ ہوگا جو اللہ چاہے) مسند احمد، حدیث نمبر 2561۔ اسی طرح ایک صحابی نے تقریر کرتے ہوئے کہا: مَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَدْ رَشَدَ، وَمَنْ يَعْصِهِمَا، فَقَدْ غَوَى (جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ راہ راست پر ہے اور جو ان دونوں کی نافرمانی کرے وہ گمراہ ہے)۔ آپ نے یہ سن کر فرمایا: بِئْسَ الْخَطِيبُ أَنْتَ (تو قوم کا برا خطیب ہے) صحیح مسلم، حدیث نمبر 870۔ آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ اللہ اور رسول کو تثنیہ کی ایک ہی ضمیر میں جمع کر دیا جائے: The Prophet observed, disliking a reference, which placed him in the same pronoun as the Almighty. پیغمبر اسلام کے یہاں تین لڑکے پیدا ہوئے جو بچپن ہی میں انتقال کر گئے۔ چار صاحبزادیاں بڑی عمر کو پہنچیں۔ چاروں حضرت خدیجہ کے بطن سے تھیں۔ حضرت فاطمہ آپ کی سب سے چھوٹی صاحبزادی تھیں۔ آپ حضرت فاطمہ سے بے حد محبت کرتے تھے۔ کسی سفر سے واپس لوٹتے تو مسجد میں دو رکعت نماز ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت فاطمہ کے گھر جاتے (المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 595)۔ ان کے ہاتھ اور پیشانی کو چومتے (مستدرک الحاکم، حدیث نمبر (4753)۔ حضرت عائشہ سے جمیع بن عمیر صحابی نے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا۔ انہوں نے جواب دیا "فاطمہ" (جامع الترمذی، حدیث نمبر 3874)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader