Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

مثالی کردار

Urdu book, p. 41

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام پر جو حقیقت کھولی گئی، وہ یہ تھی کہ یہ عالم بے خدا نہیں ہے۔ اس کا ایک خدا ہے اور وہی اس کا خالق اور مالک ہے۔ سارے انسان اس کے بندے ہیں اور اس کے سامنے بالآخر جواب دہ ہیں۔ مرنے کے بعد آدمی ختم نہیں ہو جاتا، بلکہ دوسری دنیا میں اپنی مستقل زندگی شروع کرنے کے لیے داخل ہو جاتا ہے۔ وہاں نیک آدمیوں کے لیے جنت کا آرام ہے اور برے لوگوں کے لیے جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ۔ خدا نے جب آپ کو اس حقیقت کا علم دیا تو یہ بھی حکم دیا کہ سارے انسانوں کو اس حقیقت سے آگاہ کر دو۔ مکہ کے کنارے صفا نام کی ایک چٹان تھی جو اس زمانہ میں عوامی اجتماعات کے لیے قدرتی اسٹیج کا کام دیتی تھی۔ آپ نے صفا پر چڑھ کر لوگوں کو پکارا۔ لوگ جمع ہو گئے تو آپ نے تقریر کی۔ آپ نے خدا کی عظمت بیان کرنے کے بعد کہا: وَاللَّهِ، لَتَمُوتُنَّ كَمَا تَنَامُونَ، وَلَتُبْعَثُنَّ كَمَا تَسْتَيْقِظُونَ، وَلَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُونَ، وَلَتُجْزَوْنَ بِالْإِحْسَانِ إِحْسَانًا وَبِالسُّوءِ سواء. وَإِنَّهَا لَلْجَنَّةُ أَبَدًا، وَالنَّارُ أَبَدًا (انساب الاشراف للبلاذری، جلد 1، صفحه 119)۔ یعنی خدا کی قسم تمھیں مرنا ہے جس طرح تم سوتے ہو اور پھر تم کو اٹھنا ہے جس طرح تم جاگتے ہو اور ضرور تم سے حساب لیا جائے گا جو تم کرتے ہو اور پھر تم کو اچھے کام کا اچھا بدلہ دیا جائے گا، اور برے کام کا برا بدلہ اور اس کے بعد یا تو ہمیشہ کے لیے باغ ہے یا ہمیشہ کے لیے آگ۔ زمانہ کے خلاف کسی طریقہ کو آدمی صرف ذاتی طور پر اختیار کرے تو اس وقت بھی اگر چہ قدم قدم پر مشکلات پیش آتی ہیں، تاہم یہ مشکلات جارحانہ نوعیت کی نہیں ہوتیں ۔ یہ مشکلیں آدمی کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتی ہیں۔ مگر وہ آدمی کے جسم کو زخمی نہیں کرتیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ آدمی کے خاموش صبر کا امتحان ہوتی ہیں۔ مگر اس وقت صورت حال بالکل بدل جاتی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page