مثالی کردار
Urdu book, p. 42
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے جب آدمی زمانہ کے خلاف ایک آواز کا داعی بن کر کھڑا ہو جائے ، جب وہ دوسروں سے کہنے لگے کہ یہ کرو اور وہ نہ کرو۔ پیغمبر اسلام صرف ایک بندہ مومن نہ تھے بلکہ پیغامِ الہی کو دوسروں تک پہنچانے کا مشن بھی آپ کے سپرد کیا گیا تھا۔ آپ کی اس دوسری حیثیت نے آپ کو پوری عرب قوم سے ٹکرا دیا۔ فاقہ سے لے کر جنگ تک سخت ترین حالات پیش آئے، مگر 23 سال کی پوری زندگی میں آپ مکمل طور پر انصاف اور تقویٰ پر قائم رہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ آپ کے اندر انسانی جذبات نہیں تھے، اصل یہ ہے کہ خدا کے خوف نے آپ کو پابند بنا رکھا تھا۔ ہجرت کے تیسرے سال مکہ کے مخالفین نے مدینہ پر چڑھائی کی اور وہ معرکہ پیش آیا جس کو غزوہ احد کہا جاتا ہے۔ اس جنگ میں ابتداء مسلمانوں نے فتح پائی۔ مگر اس کے بعد آپ کے بعض ساتھیوں کی غلطی سے دشمنوں کو موقع مل گیا اور انہوں نے پیچھے سے حملہ کر کے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔ یہ بڑا بھیانک منظر تھا۔ آپ کے اکثر ساتھی میدان جنگ سے بھاگنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ مسلح دشمنوں کے نرغہ میں تنہا ہو گئے۔ مخالف ہجوم بھو کے بھیڑیے کی طرح آپ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس وقت آپ نے اپنے ساتھیوں کو پکارنا شروع کیا: اِلَيَّ عِبَادَ اللهِ، اِلَيَّ عِبَادَ اللهِ ( سیرت ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 44 )، یعنی خدا کے بندو میری طرف آؤ، خدا کے بندو میری طرف آؤ۔ اور یہ کہ مَنْ رَّجُلٌ يَشْرِي لَنَا بِنَفْسِهِ (سیرت ابن هشام، جلد 2، صفحہ 81 ) - کون ہے جو ہمارے لیے اپنی جان قربان کرے۔ کون ہے جو ان ظالموں کو مجھ سے ہٹائے، وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا ( ” مَنْ يَرُدُّهُمْ عَنَّا وَلَهُ الْجَنَّةُ؟ “ اَوْ ” هُوَ رَفِيقِي فِي الْجَنَّةِ “ ) ۔ صحیح مسلم، حدیث نمبر 1789 وہ کیسا ہولناک سماں ہوگا۔ جب خدا کے رسول کی زبان سے اس قسم کے الفاظ نکل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader