مثالی کردار
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
رہے تھے۔ اگر چہ آپ کے ساتھیوں میں سے ایک تعداد نے آپ کی پکار پر لبیک کہی۔ مگر اس وقت اتنا انتشار کا عالم تھا کہ آپ کے جاں نثار بھی آپ کو پوری طرح بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ عتبہ ابن ابی وقاص نے آپ کے اوپر ایک پتھر پھینکا۔ یہ پتھر آپ کو اتنے زور سے لگا کہ ہونٹ کچل گئے اور نیچے کے دانت ٹوٹ گئے۔ عبداللہ ابن قمیہ قریش کا مشہور پہلوان تھا۔ اس نے آپ پر شدید حملہ کیا۔ جس کے نتیجہ میں لوہے کی خود کی دو کڑیاں آپ کے رخسار میں گھس گئیں۔ یہ کڑیاں اتنی گہرائی تک گھس گئی تھیں کہ ابو عبیدہ بن الجراح نے جب ان کو نکالنے کے لیے اپنے دانتوں سے پکڑ کر کھینچا تو ابو عبیدہ کے دو دانت ٹوٹ گئے۔ ایک اور شخص عبداللہ بن شہاب زہری نے آپ کو پتھر مارا جس سے آپ کی پیشانی زخمی ہو گئی۔ مسلسل خون بہنے سے آپ بے حد کمزور ہو گئے۔ حتیٰ کہ آپ ایک گڑھے میں گر پڑے ۔ میدان میں جب آپ دیر تک نظر نہیں آئے تو مشہور ہو گیا کہ آپ شہید ہو گئے۔ اس دوران میں آپ کے ایک صحابی کعب بن مالک کی نظر گڑھے کی طرف گئی وہ آپ کو دیکھ کر خوشی میں بول پڑے ’’رسول اللہ یہاں ہیں‘‘ آپ نے انگلی کے اشارے سے ان کو منع کیا کہ چپ رہو (فأشار إلي أن أنصت) سيرت ابن اسحاق، صفحہ 330 ۔ دشمنوں کو میری یہاں موجودگی کا علم نہ ہونے دو۔ ایسے خوفناک حالات میں آپ کی زبان سے قریش کے بعض سرداروں (صفوان، سہیل، حارث) کے لیے بد دعا کے الفاظ نکل گئے۔ آپ نے کہا : كَيْفَ يُفْلِحُ قَوْمٌ شَجُّوْا نَبِيَّهُمْ (وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کو زخمی کرے )۔ آپ کی زبان سے اتنی بات بھی اللہ کو پسند نہیں آئی۔ اور جبریل خدا کی طرف سے یہ وحی لے کر آگئے : لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ (3:128) ۔ یعنی ، تم کو معاملہ کا کوئی اختیار نہیں۔ خدا یا ان کو تو بہ کی توفیق دے گا یا ان کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader