مثالی کردار
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
عذاب دے گا۔ کیوں کہ وہ ظالم ہیں (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1791، مسند احمد، حدیث نمبر 5674)۔ خدا کی طرف سے اتنی تنبیہ کافی تھی۔ فوراً آپ کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ آپ زخموں سے نڈھال ہیں۔ مگر ظالموں کے حق میں ہدایت کی دعا فرما رہے ہیں۔ آپ کے ایک ساتھی عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ اس وقت بھی گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے سامنے ہیں۔ آپ اپنی پیشانی سے خون صاف کرتے ہوئے یہ دعا کر رہے تھے: اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِيْ فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1792)۔ یعنی، خدایا میری قوم کو معاف کر دے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتے۔ اوپر جو واقعات نقل کیے گئے، وہ اس قسم کے ان بے شمار واقعات میں سے صرف چند ہیں جو حدیث اور سیرت کی کتابوں میں بھرے ہوئے ہیں۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی زندگی کس طرح انسانی کردار کا معیاری نمونہ تھی۔ یہ واقعات عمل کی زبان میں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان خدا کا بندہ ہے اور اس کو ہر حال میں خدا کا بندہ بن کر رہنا چاہیے خدا اور بندے کے درمیان تعلق کا تقاضا ہے کہ بندے کے دل میں ہر وقت خدا کا اور اس کی آخرت کا طوفان برپا رہے۔ ساری کائنات اس کے لیے یاد الہی کا دسترخوان بن جائے۔ وہ ہر واقعہ کو خدا کی نظر سے دیکھے اور ہر چیز میں خدا کا نشان پالے۔ دنیا میں کوئی معاملہ کرتے وقت وہ کبھی یہ نہ بھولے کہ بالآخر سارا معاملہ خدا کے ہاتھ میں جانے والا ہے۔ جہنم کا خوف اس کو انسانوں سے تواضع اختیار کرنے پر مجبور کرے اور جنت کا شوق دنیا کو اس کی نظر میں بے حقیقت بنا دے۔ خدا کی بڑائی کا خیال اس کے ذہن پر اس قدر چھا جائے کہ اپنی بڑائی کا کوئی بھی مظاہرہ اس کو مضحکہ خیز دکھائی دینے لگے۔ کوئی تنقید اس کو مشتعل نہ کرے اور کوئی تعریف اس کے ذہن کو بگاڑنے والی ثابت نہ ہو۔ یہ ہے انسانی کردار کا وہ نمونہ جو خدا کے رسول نے اپنے عمل سے ہمیں بتایا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader