Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

برتر اخلاقیات

Urdu book, p. 45

By Maulana Wahiduddin Khan

برتر اخلاقیات قرآن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ (تم ایک اعلیٰ کردار پر ہو)۔ امام عطیہ نے خُلقِ عظیم کی تفسیر ادبِ عظیم سے کی ہے (تفسیر ابن کثیر، جلد 8، صفحہ 188)۔ یہ بلند اخلاق اور اعلیٰ کردار کیا ہے، اس کی وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اقوال سے ہوتی ہے: عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَكُونُوا إِمَّعَةً، تَقُولُونَ: إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَحْسَنْنَا، وَإِنْ ظَلَمُوا ظَلَمْنَا، وَلَكِنْ وَطِّنُوا أَنْفُسَكُمْ، إِنْ أَحْسَنَ النَّاسُ أَنْ تُحْسِنُوا، وَإِنْ أَسَاءُوا فَلَا تَظْلِمُوا (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2007)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ اِمّعہ نہ بنو، یہ کہنے لگو کہ لوگ اچھا سلوک کریں گے تو ہم بھی اچھا سلوک کریں گے۔ اور لوگ ظلم کریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ظلم کریں گے۔ بلکہ اپنے آپ کو اس کا خوگر بناؤ کہ لوگ اچھا سلوک کریں تب بھی تم اچھا سلوک کرو اور لوگ برا سلوک کریں تو تم ان کے ساتھ ظلم نہ کرو۔ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صِلْ مَنْ قَطَعَكَ، وَأَعْطِ مَنْ حَرَمَكَ، وَاعْفُ عَمَّنْ ظَلَمَكَ (مسند احمد، حدیث نمبر 17452)۔ یعنی جو تم سے کٹے تم اس سے جڑو۔ اور جو تم کو محروم کرے، تم اس کو عطا کرو۔ اور جو تم پر ظلم کرے تم اس کو معاف کردو۔ یہ اعلیٰ اخلاق جو حدیث میں بتایا گیا ہے اس اخلاق میں آپ بلند ترین مرتبہ پر تھے۔ عام مسلمانوں سے یہ اعلیٰ اخلاق عزیمت کے درجہ میں مطلوب ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ لازم تھا۔ آپ نے فرمایا کہ:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page