Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

برتر اخلاقیات

Urdu book, p. 46

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ جو مجھ سے کٹے میں اس سے جڑوں، جو مجھ کو نہ دے میں اسے دوں۔ جو مجھ پر ظلم کرے میں اسے معاف کردوں (وَأَنْ أَصِلَ مَنْ قَطَعَنِي، وَأُعْطِيَ مَنْ حَرَمَنِي، وَأَعْفُوَ عَمَّنْ ظَلَمَنِي) جامع الاصول لابن الاثیر الجزری، حدیث نمبر 9317۔ اخلاق کی دو سطحیں ہیں۔ ایک معمولی سطح اور دوسری برتر سطح۔ اخلاق کی معمولی سطح یہ ہے کہ آدمی کا اخلاق جوابی اخلاق ہو۔ یعنی اس کا اصول یہ ہو کہ ’’جو مجھ سے جیسا کرے گا میں بھی اس کے ساتھ ویسا ہی کروں گا۔‘‘ جو شخص اس سے کٹے وہ بھی اس سے کٹ جائے۔ جو شخص اس پر ظلم کرے وہ بھی اس پر ظلم کرنے لگے۔ جو شخص اس کے ساتھ برائی کرے وہ بھی اس کے لیے برا بن جائے۔ یہ عام اخلاق ہے۔ اس کے مقابلہ میں برتر اخلاق یہ ہے کہ آدمی دوسرے کے رویہ کی پروا کیے بغیر اپنا رویہ متعین کرے۔ اس کا اخلاق اصولی ہو نہ کہ جوابی۔ اعلیٰ اخلاقیات اس کا ایک عام اصول ہو جس کو وہ ہر جگہ برتے، خواہ معاملہ موافق کے ساتھ ہو یا مخالف کے ساتھ۔ وہ جڑنے والا ہو حتیٰ کہ اس سے بھی جو اس سے قطع تعلق کرے۔ وہ بہتر سلوک کرنے والا ہو حتیٰ کہ اس کے ساتھ بھی جو اس سے برا سلوک کرے۔ وہ نظر انداز کرنے والا ہو حتیٰ کہ اس سے بھی جو اس پر ظلم کرتا ہو۔ فرانس کے مشہور فلسفی والٹیئر (1778-1694ء) نے کہا تھا کہ کوئی شخص اپنے قریبی لوگوں میں ہیرو نہیں ہوتا: No man is a hero to his valet کیوں کہ قریبی لوگوں کی نظر میں آدمی کی نجی زندگی ہوتی ہے اور نجی زندگی میں کوئی بھی کامل نہیں ہوتا۔ دور والوں کو ایک شخص جتنا اچھا معلوم ہوتا ہے، قریب کے لوگوں کو وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page