برتر اخلاقیات
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
اتنا اچھا معلوم نہیں ہوتا۔ اس لیے قریبی لوگوں کے اندر اس کے بارے میں ہیرو کے جذبات پیدا نہیں ہوتے۔ مگر باسورتھ اسمہ نے لکھا ہے کہ یہ کلیہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر صادق نہیں آتا، کیوں کہ تاریخ بتاتی ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ آپ سے قریب تھا، اتناہی زیادہ وہ آپ کی خوبیوں کا شیدائی تھا۔ زید بن حارثہ قبیلہ کلَب کے ایک شخص حارثہ بن شرحبیل کے لڑکے تھے۔ ان کی ماں سعدی بنت ثعلبہ تھیں جو قبیلہ طَے کی ایک شاخ بنی معن سے تعلق رکھتی تھیں۔ زید جب آٹھ سال کے تھے، اس وقت ان کی ماں ان کو لے کر اپنے میکے گئیں۔ وہاں بنی قین بن جسر کے لوگوں نے ان کے پڑاؤ پر حملہ کیا۔ وہ جو کچھ لوٹ کر لے گئے اس میں زید بھی تھے۔ اس کے بعد انہوں نے عکاظ کے میلے میں لے جا کر ان کو بیچ دیا۔ ان کو حکیم بن حزام نے خریدا، جو حضرت خدیجہ کے بھتیجے تھے۔ وہ اس بچہ کو مکہ لائے اور غلام کی حیثیت سے اپنی پھو پھی کو دے دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح حضرت خدیجہ سے ہوا تو حضرت خدیجہ نے ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دے دیا۔ اس وقت زید کی عمر 15 سال تھی۔ کچھ عرصہ بعد زید کے باپ اور چچا کو معلوم ہوا تو وہ مکہ آئے تا کہ اپنے بچے کو حاصل کر کے اپنے ساتھ لے جائیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے اور کہا کہ آپ جو فدیہ لینا چاہیں ہم دینے کے لیے تیار ہیں۔ آپ ہمارا بچہ ہم کو دے دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے کوئی فدیہ نہیں چاہیے ۔ اگر لڑکا تمہارے ساتھ جانا چاہے تو تم اس کو لے جا سکتے ہو۔ آپ نے زید کو بلایا اور کہا ان کو پہچانتے ہو۔ انہوں نے کہا ہاں، یہ میرے باپ اور چچا ہیں۔ آپ نے فرمایا: یہ لوگ تم کو لے جانا چاہتے ہیں۔ اگر تم چاہو تو ان کے ساتھ اپنے گھر جاسکتے ہو۔ زید نے جواب دیا: میں آپ کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ یہ سن کر ان کے باپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader