Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

برتر اخلاقیات

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

اور چچا بگڑ گئے ۔ انہوں نے کہا: تم آزادی کو چھوڑ کر غلامی کو پسند کرتے ہو اور اپنوں کو چھوڑ کر غیروں میں رہنا چاہتے ہو (أَتَخْتَارُ العُبُودِيَّةَ عَلَى الحُرِّيَّةِ وَعَلَى أَبِيكَ وَعَمِّكَ وَأَهْلِ بَيْتِكَ )۔ زید نے کہا: میں نے محمد کے اندر جو خوبیاں دیکھی ہیں اس کے بعد اب میں کسی کو بھی ان کے اوپر ترجیح نہیں دے سکتا (إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ مِنْ هَذَا الرَّجُلِ شَيْئًا مَا أَنَا بِالَّذِي أَخْتَارُ عَلَيْهِ أَحَدًا أَبَدًا ) ۔ اس کے بعد زید کے باپ اور چچا اپنے وطن کو واپس چلے گئے (الطبقات الکبریٰ لابن سعد، جلد 3، صفحہ 31 )۔ یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی خصوصیت کی طرف قرآن میں ان لفظوں میں اشارہ کیا گیا ہے: فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنْتَ لَهُمْ ۚ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانْفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ( 3:159 ) ۔ یعنی ، یہ اللہ کی رحمت ہے کہ تم ان کے لیے نرم ہو ۔ اگر تم درشت زبان اور سخت دل ہوتے تو وہ تمہارے پاس سے منتشر ہو جاتے۔ پیغمبر اسلام کا یہی اعلیٰ کردار تھا جس نے آپ کے اندر تسخیری قوت پیدا کر دی ۔ جو شخص بھی آپ سے قریب ہوا وہ آپ کی عظمتوں کو دیکھ کر مفتوح ہو کر رہ گیا۔ طائف کی وہ شام بھی کس قدر بھیانک تھی جب شہر کے لڑکے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مار مار کر شہر سے باہر لے جا رہے تھے۔ آپ مکہ سے پچاس میل کا پیدل سفر طے کر کے حجاز کے رئیسوں کے گرمائی صدر مقام پہنچے تھے تاکہ انہیں دین اسلام کی دعوت دیں۔ مگر طائف کے رئیسوں نے آپ کے خیر خواہانہ پیغام کو سننے کے بجائے شہر کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ یہ شریر لڑکے اس وقت تک آپ کا پیچھا کرتے رہے جب تک سورج نے غروب ہو کر آپ کے اور ان لڑکوں کے درمیان تاریکی کا پردہ نہ ڈال دیا۔ آپ کا جسم زخموں سے چور تھا۔ سر سے پاؤں تک آپ خون میں نہائے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ نے تھک کر انگور کے ایک باغ میں پناہ لی ( سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 48 ) ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page