برتر اخلاقیات
Urdu book, p. 49
By Maulana Wahiduddin Khan
غور کیجیے، یہ کسی آدمی کے لیے کتنا نازک وقت ہوتا ہے۔ آپ نے خود ایک بار اپنی بیوی حضرت عائشہ سے فرمایا کہ طائف کی یہ شام میری زندگی کی سخت ترین شام تھی۔ مگر آپ کی زبان سے اس انتہائی سنگین موقع پر اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی برا کلمہ نہیں نکلا۔ بلکہ آپ نے فرمایا'' مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان منکروں کی نسل سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کریں گے‘‘ (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3231)۔ اللہ کے رسول کا یہی اخلاق تھا جس نے آپ کے دشمنوں کو اس طرح زیر کیا کہ سارے عرب نے آپ کے پیغام کو قبول کر لیا۔ آپ کے اعلیٰ کردار کے آگے کوئی تعصب، کوئی عداوت اور کوئی ہٹ دھرمی ٹھہر نہ سکی۔ آپ کی بلند سیرت لوگوں کو جادو کی طرح مسخر کرتی چلی گئی۔ ایک بار آپ نے فرمایا: صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ تم صلہ رحم کرنے والوں کے ساتھ صلہ رحم کرو۔ بلکہ صلہ رحمی یہ ہے کہ جو قطع رحم کرے اس کے ساتھ صلہ رحمی کرو (صحیح البخاری، حدیث نمبر (5991)۔ تاریخِ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار اسلام کے کچھ دشمنوں نے حضرت عائشہ پر بدکاری کی تہمت لگائی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ اور حضرت ابو بکر کی صاحبزادی تھیں۔ یہ تہمت سراسر جھوٹ اور بے بنیاد تھی۔ اس فرضی داستان کو گھڑنے اور اس کو پھیلانے میں ایک شخص مسطح نام کا بھی شریک تھا۔ یہ شخص حضرت ابو بکر کا رشتہ دار تھا۔ اس کو ضرورت مند سمجھ کر حضرت ابو بکر اس کو ماہانہ کچھ رقم دیا کرتے تھے۔ جب حضرت ابو بکر کو معلوم ہوا کہ ان کی معصوم صاحبزادی پر جھوٹی تہمت لگانے میں مسطح بھی شریک رہا ہے تو انہوں نے مسطح کی امدادی رقم بند کر دی۔ اس پر اللہ کے رسول کے پاس یہ وحی آئی کہ اگر کوئی شخص معاشی اعتبار سے ضرورت مند ہے تو اس کے اخلاقی جرم کی وجہ سے اس کی مالی امداد بند نہ کرو، بلکہ اس کے جرم سے درگزر کرتے ہوئے اس کی معاشی امداد کو جاری رکھو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader