Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

برتر اخلاقیات

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں کہا گیا کہ تم میں سے جو لوگ صاحبِ فضل اور کشائش والے ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھائیں کہ وہ اپنے رشتہ داروں، محتاجوں اور اللہ کی راہ میں وطن چھوڑ دینے والوں کی مدد نہ کریں گے۔ ان کو معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تم کو معاف کر دے اور اللہ معاف کرنے والا مہربان ہے (24:22) دیکھیے صحیح مسلم، حدیث نمبر 2770۔ حضرت ابو بکر ہی کا واقعہ ہے کہ ایک بار وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ کو برا بھلا کہا۔ حضرت ابو بکر پہلی بار سن کر چپ رہے۔ اس نے دوسری بار برا بھلا کہا تو اس وقت بھی آپ چپ رہے۔ مگر جب اس نے تیسری بار بد زبانی کی تو آپ خاموش نہ رہ سکے اور جواب میں بول اٹھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ فورا وہاں سے اٹھ گئے۔ حضرت ابو بکر نے پوچھا: اے خدا کے رسول آپ کیوں اٹھ گئے۔ آپ نے کہا: ابو بکر ! جب تک تم چپ تھے، خدا کا فرشتہ تمہاری طرف سے جواب دے رہا تھا، جب تم خود بول پڑے تو فرشتہ وہاں سے چلا گیا (نَزَلَ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُهُ بِمَا قَالَ لَكَ، فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ) سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4896۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ برائی کے جواب میں جب آدمی اپنی طرف سے کوئی انتقامی کارروائی نہیں کرتا تو وہاں خدا اس کی طرف سے انتقام لینے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ مگر جب آدمی خود انتقام لینے پر اتر آئے تو خدا اس کے معاملے کو اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کسی انسان کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ خدا سے بہتر انتقام لے سکے۔ حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم سے کچھ اشرفیاں قرض لیں۔ کچھ دن گزر گئے تو وہ یہودی تقاضے کے لیے پہنچا۔ آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page