Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

برتر اخلاقیات

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

نے فرمایا کہ ”اس وقت میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے“۔ یہودی نے کہا ”جب تک تم میرا قرض ادا نہ کروگے میں تم کو نہیں چھوڑوں گا“۔ چنانچہ ظہر کے وقت سے لے کر رات تک وہ آپ کو گھیرے میں لیے ہوئے بیٹھا رہا۔ یہ زمانہ وہ تھا جب کہ مدینہ میں آپ کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ آپ اس کے خلاف کارروائی کرنے کی طاقت رکھتے تھے۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے اس کو ڈانٹ کر بھگانا چاہا۔ مگر آپ نے سب کو منع کر دیا۔ کسی نے کہا: ”اے خدا کے رسول، ایک یہودی آپ کو قید کیے ہوئے ہے“۔ آپ نے کہا کہ ہاں، مگر مجھ کو ظلم کرنے سے منع کیا گیا ہے (مَنَعَنِی رَبِّی أَنْ أَظْلِمَ مُعَاہِدًا وَلَا غَیْرَہُ)۔ اسی حال میں صبح ہو گئی۔ جب اگلا دن شروع ہوا تو یہودی کی آنکھیں کھل گئیں ۔ وہ یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوا کہ آپ قدرت رکھتے ہوئے بھی برداشت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ مسلمان ہو گیا۔ یہ یہودی مدینہ کا ایک مالدار آدمی تھا۔ کل تک اس نے چند اشرفیوں کے لیے آپ کا گھیر او کر رکھا تھا۔ مگر آپ کے اعلیٰ کردار نے اس پر اتنا اثر کیا کہ اس نے اپنی ساری دولت آپ کی خدمت میں پیش کردی اور کہا کہ آپ اس کو جس طرح چاہیں خرچ کریں (دلائل النبوة للبيهقى، جلد 6، صفحہ 81-280)۔ عبداللہ بن ابی الحصماء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار میں نے خرید و فروخت کا ایک معاملہ کیا۔ ابھی معاملہ پورا نہیں ہوا تھا کہ مجھے کچھ ضرورت پیش آگئی۔ میں نے کہا کہ آپ ٹھہریے۔ میں گھر سے واپس آتا ہوں تو بقیہ معاملہ کو مکمل کروں گا۔ گھر پہنچنے کے بعد میں بعض کاموں میں ایسا مشغول ہوا کہ اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین دن کے بعد یاد آیا تو میں اس مقام پر پہنچا۔ دیکھا کہ وہاں رسول اللہ موجود ہیں۔ آپ نے مجھ کو دیکھنے کے بعد صرف اتنا کہا: تم نے مجھ کو بہت تکلیف دی (یَا فَتَی لَقَدْ شَقَقْتَ عَلَیَّ أَنَا ہَاہُنَا مُنْذُ ثَلَاثٍ أَنْتَظِرُکَ) ۔ میں تین دن سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page