برتر اخلاقیات
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
(ابوداؤد، حدیث نمبر 4996)۔ اس طرح کا عمل اپنے اندر اتنی کشش رکھتا ہے کہ انتہائی کٹر آدمی بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ حضرت عائشہ بتاتی ہیں کہ یہودی عالموں کی ایک جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ جب وہ لوگ آپ کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا: االسَّلَامُ عَلَيْکُمْ (تباہی ہو تم پر) حضرت عائشہ نے سنا تو ان سے برداشت نہ ہو سکا، انہوں نے کہا ’’بلکہ تم لوگ غارت ہو جاؤ اور تم پر خدا کی لعنت ہو‘‘ (وَعَلَيْكُمُ السَّامُ وَاللَّعْنَةُ)۔ آپ نے حضرت عائشہ کو اس قسم کے جواب سے منع فرمایا اور کہا: ’’خدا مہربان ہے اور وہ ہر کام میں مہربانی کو پسند کرتا ہے۔‘‘ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6024) حقیقت یہ ہے کہ مخالف کا دل جیتنے کے لیے اس سے بڑا کوئی حربہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی بدزبانی کا جواب نرم باتوں سے دیا جائے۔ ہتھیار کے حملے کی تاب لانا تو ممکن ہے مگر کردار کے حملے کے مقابلہ میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔ یہاں ہر شخص کو اپنی ہار ماننی پڑتی ہے۔ براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر تین شرطوں کے ساتھ قریش سے معاہدہ کیا تھا۔ ان میں سے ایک شرط یہ تھی کہ کوئی غیر مسلم اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے یہاں چلا جائے تو مسلمان اس کو واپس کر دیں گے۔ مگر جو مسلمان قریش کے پاس پہنچ جائے اس کو قریش واپس نہیں کریں گے۔ یہ معاہدہ ہو رہا تھا کہ ایک مسلم نوجوان ابوجندل مکہ سے بھاگ کر حدیبیہ پہنچے۔ ان کو ان کے گھر والوں نے اسلام کے جرم میں قید کر رکھا تھا۔ وہ بیڑیاں پہنے ہوئے اس حال میں حدیبیہ پہنچے کہ ان کا جسم بیڑیوں کی رگڑ سے زخمی ہو رہا تھا۔ وہ فریاد کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مجھ کو دشمنوں کے چنگل سے بچاؤ۔ یہ بے حد نازک وقت تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے تلواریں نکال لیں۔ ابو جندل کے جذباتی واقعہ کو دیکھنے کے بعد لوگوں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader