برتر اخلاقیات
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
رجحان ہو گیا کہ معاہدہ کو توڑ کر ابو جندل کی زندگی کو بچایا جائے۔ دوسری طرف مکہ والوں نے کہا:’’ محمد! ہمارے اور تمہارے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے، یہ اس کی تکمیل کا پہلا موقع ہے‘‘ (ھَذَا يَا مُحَمَّدُ أَوَّلُ مَا أُقَاضِيكَ عَلَيْهِ أَنْ تَرُدَّهُ إِلَيَّ)۔ بالاخر اللہ کے رسول نے فیصلہ کیا کہ جو معاہدہ طے ہو چکا ہے اب اس سے ہم پھر نہیں سکتے۔ آپ کے ساتھیوں کے لیے یہ بات بے حد تکلیف کی تھی۔ مگر آپ نے ابو جندل کو دوبارہ مکہ والوں کے حوالے کر دیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ بظاہر اس واقعہ کے معنی یہ تھے کہ مظلوم کو دوبارہ ظالم کے چنگل میں دے دیا جائے۔ مگر اس واقعہ میں اصول پسندی کا جو شان دار عملی مظاہرہ ہوا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ظالم اندر سے بالکل ڈھ گئے ۔ اب ان کا ابو جندل کو لے جانا اور اپنے یہاں ان کو قید میں رکھنا محض ایک عام واقعہ نہ رہا بلکہ ان کی طرف سے اخلاقی گراوٹ اور اسلام کے لیے اخلاقی بلندی کی ایک مثال بن گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مکہ کے لوگ اسلام کی اخلاقی برتری سے مرعوب ہو گئے۔ وہاں کثرت سے لوگ مسلمان ہونے لگے۔ ابو جندل کا وجود مکہ میں اسلام کی زندہ تبلیغ بن گیا۔ حتیٰ کہ قید و بند کی حالت میں بھی ابو جندل ان کو اپنی قومی زندگی کے لیے خطرہ معلوم ہونے لگے۔ چنانچہ انہوں نے اس میں عافیت سمجھی کہ ان کو رہاکر کے مکہ کے باہر بھیج دیا جائے۔ حضرت ابو ہریرہ مدنی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کے لوگوں کی طرف چند سوار بھیجے جو آپ کے دشمن بنے ہوئے تھے۔ وہ شہر یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال کو راستہ میں پا گئے اور اس کو گرفتار کر لائے۔ مدینہ پہنچ کر انہوں نے اس کو مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا۔ رسول اللہ اس کے پاس آئے اور حال پوچھا۔ ثمامہ نے جواب دیا:’’اگر تم مجھ کو چھوڑ دو گے تو میں عمر بھر تمہارا احسان مانوں گا، اور اگر تم نے مجھ کو قتل کر دیا تو میری قوم تم سے میرے خون کا بدلہ لے گی، اور اگر مال کی خواہش ہے تو جتنا مال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader