Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

برتر اخلاقیات

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

چاہو میں دینے کے لیے تیار ہوں‘‘ (اِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ، وَإِنْ تُقْتَلْ تُقْتَلْ ذَادَمِ، وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ) ۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 4372۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی رہائی کا حکم دے دیا۔ یہ واقعہ اس وقت کی دنیا میں بہت عجیب تھا۔ کیوں کہ قبائلی زندگی میں کسی دشمن کے ہاتھ آجانے کے بعد اس کا ایک ہی انجام تھا۔ اور وہ یہ کہ اس کو قتل کر دیا جائے ۔ رسول اللہ نے اس کے جسم کو تو قتل نہیں کیا مگر اپنے اخلاقی سلوک سے اس کی روح کو قتل کر دیا۔ چنانچہ قید سے چھوٹنے کے بعد ثمامہ قریب کے ایک باغ میں گیا اور غسل کر کے دوبارہ مسجد میں آیا۔ لوگ حیران تھے کہ وہ دوبارہ کس لیے یہاں آیا ہے۔ مگر جب اس نے بلند آواز سے کلمہ شہادت ادا کر کے اپنے مسلمان ہو نے کا اعلان کیا تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ کر دراصل ہمیشہ کے لیے اس کو گرفتار کر لیا تھا۔ اس کے بعد ثمامہ عمرہ کرنے کے لیے مکہ گئے۔ جب وہ حرم میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں کو ثمامہ کے اسلام کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے کہا: ’’تم بے دین ہو گئے‘‘۔ ثمامہ نے جواب دیا کہ میں بے دین نہیں ہوا بلکہ میں نے خدا کے رسول کے دین کو اختیار کر لیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ثمامہ اسلام کی قوت کا ذریعہ بن گئے۔ اس زمانہ میں مکہ کے لوگوں کو باہر کے جن مقامات سے گندم فراہم ہوتی تھی ان میں یمامہ ایک خاص مقام تھا۔ چنانچہ ثمامہ نے مکہ والوں سے کہا کہ سن لو، محمد کی اجازت کے بغیر اب گندم کا ایک دانہ بھی تمہارے یہاں نہیں آئے گا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1764) ۔ کردار بظاہر ایک بے قیمت چیز ہے مگر اس کو دے کر آدمی ہر چیز خرید لیتا ہے۔ اخلاق کی بلندی یہ ہے کہ کہنے والا جو کچھ کہے اس پر وہ خود عمل کرتا ہو۔ کمزوروں کے ساتھ بھی وہ رعایت وشرافت کا وہی طریقہ اختیار کرے جو کوئی شخص طاقتور کے ساتھ کرتا ہے۔ اپنے لیے اس کے پاس جو معیار ہو وہی معیار دوسروں کے لیے بھی ہو۔ مشکل حالات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page