برتر اخلاقیات
Urdu book, p. 55
By Maulana Wahiduddin Khan
میں بھی وہ اپنے اصولوں سے نہ ہٹے ۔ حتیٰ کہ دوسروں کی طرف سے پست کردار کا مظاہرہ ہو تب بھی وہ اعلیٰ کردار پر قائم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس اعتبار سے اخلاق کے کمال درجہ پر تھے۔ آپ نے کبھی اعلیٰ اخلاق کو نہیں چھوڑا ۔ کوئی مصلحت یا کوئی اختلاف آپ کو اخلاق سے ہٹانے میں کامیاب نہ ہوسکا ۔ آپ کے انتہائی قریبی ساتھیوں نے اس معاملہ میں جو گواہی دی ہے اس سے بڑی اور کوئی گواہی نہیں ہوسکتی۔ سعید بن ہشام تابعی نے آپ کی زوجہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ کا اخلاق کیسا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: آپ کا اخلاق تو قرآن تھا (فإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ) صحیح مسلم، حدیث نمبر 746 ۔ گویا قرآن کی صورت میں مطلوب زندگی کا جو نقشہ آپ نے دوسروں کے س امنے پیش کیا خود آپ اسی نقشہ میں ڈھل گئے۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے دس سال تک رسول اللہ کی خدمت کی مگر کبھی آپ نے اف تک نہ کیا اور نہ کبھی میرے کسی کام کی بابت آپ نے کہا کہ تم نے ایسا کیوں کیا اور جو کام میں نے نہیں کیا، اس کی بابت بھی آپ نے کبھی یہ نہ کہا کہ تم نے اس کو کیوں نہیں کیا (فَمَا قَالَ لِي : أُفٍّ، وَلَا : لِمَ صَنَعْتَ؟ وَلَا : أَلَّا صَنَعْتَ ) ۔ وہ تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6038، صحیح مسلم، حدیث نمبر 2309 )۔ امام احمد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی خادم کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا نہ کسی عورت کو مارا (مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ خَادِماً لَا قَطُّ، وَلَا امْرَأَةً ) اور نہ کسی دوسرے کو اپنے ہاتھ سے مارا ۔ البتہ آپ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے تھے۔ جب بھی آپ کو دو چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو لینے کا اختیار دیا گیا تو آپ نے آسان کو اختیار فرمایا، الا یہ کہ وہ گناہ ہو۔ جو چیز گناہ ہوتی اس سے آپ تمام لوگوں سے زیادہ دور رہنے والے تھے۔ آپ کو خواہ کوئی بھی تکلیف پہنچائی گئی ہو کبھی آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا، الا یہ کہ اللہ کی حرمتوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader