Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

برتر اخلاقیات

Urdu book, p. 56

By Maulana Wahiduddin Khan

کو توڑا گیا ہو، اور آپ نے اللہ کی خاطر اس کا بدلہ لیا ہو (مسند احمد، حدیث نمبر 24034)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی کردار تھا جس نے آپ کو دشمنوں کی نظر میں بھی قابلِ عزت بنا دیا۔ جن لوگوں نے آپ کا ساتھ دیا وہ ہر طرح کی مصیبت اور نقصان کے باوجود آپ کے ساتھ جڑے رہے۔ اپنی مظلومی کے دور میں بھی آپ لوگوں کی نظر میں اتنے ہی محبوب تھے جتنا فتح وغلبہ کے دور میں۔ آپ کو دور سے دیکھنے والوں نے آپ کو جیسا پایا ویسا ہی ان لوگوں نے بھی پایا جو آپ کو قریب سے دیکھ رہے تھے۔ آپ کا کردار ایسا نمونہ بن گیا جیسا نمونہ تاریخ میں دوسرا نہیں پایا جاتا۔ آپ کا اعلیٰ کردار آپ کی با اصول زندگی کا ایک مستقل جز ء تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان افراد کے ساتھ بھی بدستور باقی رہتا تھا جن سے آپ کو شکایت یا تکلیف پہنچی ہو۔ کعبہ کی در بانی (حجابہ) جاہلیت کے زمانہ میں بھی نہایت عزت کی چیز سمجھی جاتی تھی۔ یہ در بانی قدیم ترین زمانہ سے ایک خاص خاندان میں چلی آرہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس خاندان کے ایک فرد عثمان بن طلحہ کعبہ کے در بان تھے۔ انہیں کے پاس کعبہ کی کنجیاں رہتی تھیں۔ بخاری نے روایت کیا ہے کہ ہجرت سے پہلے ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ کعبہ کے اندر داخل ہو کر عبادت کریں۔ آپ نے عثمان بن طلحہ سے کنجی مانگی تا کہ اس کا دروازہ کھول سکیں۔ مگر عثمان بن طلحہ نے انکار کیا اور آپ کو برا بھلا کہا۔ آپ نے فرمایا: اے عثمان، کسی دن تم دیکھو گے کہ یہ کنجی میرے ہاتھ میں ہوگی۔ مجھے اختیار ہوگا کہ میں جس کو چاہوں اسے دوں۔ یہ سن کر عثمان بن طلحہ نے کہا: لَقَدْ ھَلَکَتْ قُرَیشٌ یَوْمَئِذٍ اِذَا وَ ذَلَّتْ (وہ دن قریش کی تباہی اور رسوائی کا دن ہوگا)۔ آپ نے فرمایا: نہیں، اس دن وہ آباد اور با عزت ہوں گے (بَلْ عَزَزْتَ وَ عَمَرْتَ یَوْمَئِذٍ یَا عُثْمَانُ)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page