برتر اخلاقیات
Urdu book, p. 57
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد وہ وقت آیا کہ مکہ فتح ہوا اور تمام اختیار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آگیا۔ آپ مکہ میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے بیت اللہ گئے۔ آپ نے کعبہ کا سات بار طواف کیا۔ اس کے بعد آپ نے عثمان بن طلحہ کو بلوایا۔ ایک روایت کے مطابق وہ صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے درمیانی زمانہ میں مسلمان ہو چکے تھے آپ نے ان سے کنجی لی اور دروازہ کھول کر کعبہ کے اندر داخل ہوئے۔ آپ کچھ دیر اس کے اندر رہے اور وہاں جو بت تھا اس کو اپنے ہاتھ سے توڑ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے باہر نکلے تو آپ کے ہاتھ میں اس کی کنجی تھی اور آپ یہ آیت پڑھ رہے تھے : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا (4:58)۔ یعنی اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں اہل امانت کے سپرد کر دو۔ اس وقت آپ کے چچا عباس بن عبد المطلب کھڑے ہو گئے اور کہا: اِجْمَعْ لَنَا الْحِجَابَةَ وَ السِّقَايَةَ۔ یعنی، ہم بنو ہاشم کو پہلے سے زائرین کعبہ کو پانی پلانے کی خدمت حاصل ہے۔ اب کعبہ کی کلید برداری بھی ہمیں کو دے دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عثمان بن طلحہ کہاں ہیں۔ ان کو بلایا گیا۔ آپ نے کعبہ کی کنجی ان کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اس کو لو۔ یہ تمہارے خاندان میں ہمیشہ موروثی طور پر رہے گی۔ ظالم کے سوا کوئی بھی تم سے اس کو نہیں چھینے گا (خُذُوهَا يَا بَنِي أَبِي طَلْحَةَ تَالِدَةً خَالِدَةً، لَا يَنْزِعُهَا مِنْكُمْ إِلَّا ظَالِم) اخبار مكة للزرقي ، جلد 1، صفحه 68-267۔ ایک دوسری روایت کے مطابق، آپ نے یہ کہا: هَاكَ مِفْتَاحَكَ يَا عُثْمَانُ، الْيَوْمُ يَوْمُ بِرٍّ وَ وَفَاء (الروض الانف، جلد 7، صفحہ 233)۔ یعنی اے عثمان، اپنی کنجی لو، آج وفا اور حسن سلوک کا دن ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق کی ادائیگی اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader