Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

برتر اخلاقیات

Urdu book, p. 58

By Maulana Wahiduddin Khan

امانتوں کی واپسی کے معاملہ میں مسلمانوں کو اتنا زیادہ پابند ہونا چاہیے کہ صاحب حق کی طرف سے تلخی کا مظاہرہ ہو تب بھی جس کا جو حق ہے اس کو اس کا حق پورا پورا ادا کیا جائے۔ حقوق کی ادائیگی سے کسی حال میں بھی تجاوز نہ کیا جائے خواہ وہ اپنی طبیعت کے کتنا ہی خلاف ہو۔ دنیا پرست لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جب ان کو کسی قسم کا اقتدار ملتا ہے تو سب سے پہلے وہ اس بات کی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے سابق مخالفین کو سزا دیں اور ان کو ان کے منصب سے ہٹا کر اپنے عقیدت مندوں کو تمام مناصب پر بٹھا دیں۔ ہر صاحب اقتدار موافق اور مخالف کی اصطلاحوں میں سوچتا ہے۔ موافقین کو اٹھانا اور مخالفین کو کچلنا اس کی پالیسی کا سب سے اہم جزء ہوتا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرب میں اقتدار حاصل ہوا تو آپ نے اس کے بالکل برعکس معاملہ کیا۔ آپ نے معاملات کو "موافق" اور "مخالف" کے اعتبار سے نہیں دیکھا بلکہ حق پسندی اور امانت داری کے لحاظ سے دیکھا۔ اور تمام شکایتی باتوں کو نظر انداز کر کے ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ کیا جو رحمت اور عدل کا تقاضا تھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page