اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
اسباق سیرت قرآن میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِیرًا (33:21)۔ یعنی تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امید وار ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہر انسان کے لیے مکمل نمونہ ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ یہ نمونہ صرف اس شخص کے لیے ہے جو اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والا ہو، جو اللہ اور آخرت کا امید وار بن چکا ہو۔ گویا رسول کی زندگی کا نمونہ، پوری طرح موجود ہونے کے باوجود، اپنے آپ ہر آدمی کے لیے نمونہ نہیں بن جائے گا۔ وہ صرف اس بندۂ خدا کے لیے نمونہ بنے گا جس نے اللہ کو اتنی گہرائی کے ساتھ پایا ہو کہ وہ اس کی یادوں میں سما جائے۔ اللہ جس کی تمناؤں کا سرمایہ بن چکا ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ وہ اللہ کے عذاب سے ڈرنے لگے اور آخرت کا انعام جس کی نظر میں اتنا اہم بن جائے کہ وہ دل و جان سے اس کا آرزو مند ہو۔ رسول کے اسوۂ حسنہ کو پانے کے لیے یہ شرط کیوں لگائی گئی ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی حقیقت کے ادراک کے لیے اس کے بارے میں سنجیدہ ہونا شرط لازم ہے۔ خدا اور آخرت سے مذکورہ قسم کا تعلق ہونا آدمی کو خدا اور آخرت کی باتوں میں سنجیدہ بناتا ہے۔ یہی سنجیدگی اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو صحیح نظر سے دیکھے اور اس سے مطلوبہ سبق لے سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader