Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 60

By Maulana Wahiduddin Khan

اس مسئلہ کی وضاحت کے لیے ایک مثال لیجیے۔ حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِيْنِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1421 ؛ سنن النسائی ، حدیث نمبر 4106)۔ یعنی، جو شخص اپنے مال کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے دین کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے خون کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ جو شخص اپنے گھر والوں کی حفاظت میں مارا جائے وہ شہید ہے۔ جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے، یہ حدیث ”لڑنے“ کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ ”مارے جانے“ کی صورت میں مومن کے انجام کو بتانے سے متعلق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ نہیں ہے کہ جب بھی کہیں کوئی مال یا خون یا دین یا اہل و عیال کا مسئلہ پیش آئے، تم فوراً لڑ جاؤ، خواہ اس کے نتیجہ میں یہی کیوں نہ ہو کہ تم قتل کر دیے جاؤ۔ بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ اگر کبھی ایسا ہو کہ مذکورہ اسباب سے کوئی شخص مومن کو قتل کر دے تو اس کا قتل قتل نہیں بلکہ شہادت ہوگا۔ گویا یہ حدیث اصلاً لڑائی پر اکسانے کے لیے نہیں ہے بلکہ قتل کر دیے جانے کی صورت میں شہادت کا درجہ پانے سے متعلق ہے۔ اب جو شخص دین کے بارے میں سنجیدہ نہ ہو، جس کو اپنے ذاتی ذوق کے لیے رسول اللہ کا جواز مطلوب ہو وہ بس حدیث کے الفاظ کو لے لے گا اور اپنے نفسانی جھگڑوں اور قومی لڑائیوں کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے اس کو بطور دلیل پیش کرے گا۔ وہ کہے گا کہ اسلام آدمی کو مردانگی کی تعلیم دیتا ہے، وہ کہتا ہے کہ اپنے دین و ایمان، جان و مال، زمین و جائداد، بیوی بچوں اور خویش و اقارب کی حفاظت کے لیے لڑ جاؤ۔ اگر تم جیت گئے تو تم نے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page