اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 61
By Maulana Wahiduddin Khan
اپنا مقصد پالیا۔ اگر تم ہار گئے تو تم شہید ہوئے۔ اور شہادت وہ بلند رتبہ ہے جو خوش قسمت انسانوں ہی کو ملتا ہے۔ مگر جو آدمی اللہ سے ڈرتا ہو وہ اس کو نہایت سنجیدہ ہو کر دیکھے گا۔ اس کی سنجیدگی اس کو اس سوال تک پہنچائے گی کہ جب مال اور خون اور دین اور خاندان کے دفاع میں لڑنا مرنا مطلوب ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اس قسم کی برعکس مثالیں کیوں ہیں کہ آپ بہت سے مواقع پر صریح ظلم کے باوجود صبر کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ 1۔ مثال کے طور پر ابن ہشام نے ابو عثمان النہدی کے حوالہ سے یہ واقعہ نقل کیا ہے: بَلَغَنِي أَنَّ صُهَيْبًا حِينَ أَرَادَ الْهِجْرَةَ قَالَ لَهُ كُفَّارُ قُرَيْشٍ: أَتَيْتَنَا ضَعْعِيفًا حَقِيرًا، فَكَثُرَ مَالُكَ عِنْدَنَا، وَبَلَغَتِ الَّذِي بَلَغْتَ، ثُمَّ تُرِيدُ أَنْ تَخْرُجَ بِمَالِكَ وَنَفْسِكَ، وَاللَّهِ لَا يَكُونُ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُمْ صُهَيْبٌ: أَرَأَيْتُمْ إِنْ جَعَلْتُ لَكُمْ مَالِي أَتُخْلُونَ سَبِيلِي؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: فَإِنِّي جَعَلْتُ لَكُمْ مَالِي. قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: رَبِحَ صُهَيْبٌ، رَبِحَ صُهَيْبٌ (سیرۃ النبی لابن ہشام، جلد 2، صفحہ 89) یعنی، مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت صہیب نے جب مکہ سے ہجرت کا ارادہ کیا تو کفار قریش نے ان سے کہا کہ تم ہمارے یہاں آئے تو بالکل غریب تھے۔ پھر تمہارے پاس یہاں بہت مال ہو گیا اور تم اس درجہ کو پہنچے جس درجہ میں تم اب ہو۔ تم چاہتے ہو کہ اپنے جان و مال کے ساتھ یہاں سے چلے جاؤ تو خدا کی قسم ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ حضرت صہیب نے ان سے کہا، اگر میں اپنا مال تمہارے حوالے کر دوں تو تم مجھ کو جانے دو گے۔ انہوں نے کہا، ہاں۔ حضرت صہیب نے کہا پھر میں نے اپنا مال تمہارے حوالے کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: صہیب کی تجارت کامیاب رہی، صہیب کی تجارت کامیاب رہی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader