اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 62
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ حدیث میں مال کے مقابلہ میں لڑ کر جان دینا اگر مطلق معنوں میں ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاہیے تھا کہ حضرت صہیب کو نا کامی کا الزام دیں ، نہ کہ انہیں کامیابی کا کریڈٹ عطا فرمائیں۔ 2- ہجرت کے چھٹے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے ارادہ سے مدینہ سے روانہ ہوئے۔ مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر پہنچے تو قریش نے آگے بڑھ کر روکا۔ اس موقع پر فریقین کے درمیان صلح کی گفت و شنید ہو رہی تھی کہ وہاں ابو جندل بن سہیل آگئے۔ انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔ اس کی وجہ سے مکہ سے مکہ والے ان کو سخت تکلیفیں دے رہے تھے اور ان کے پیروں میں لوہے کی زنجیریں ڈال دی تھیں ۔ انہوں نے جب سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب حدیبیہ میں ہیں تو وہ کسی طرح بھاگ کر مکہ سے حدیبیہ پہنچے۔ اس وقت بھی ان کے پیروں میں بیڑیاں تھیں اور ان کا جسم خون آلود ہو رہا تھا، ان کو دیکھ کر قریش کے سردار سہیل بن عمرو (ابوجندل کے والد) نے کہا کہ ابو جندل کو ہمیں واپس کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے بہت چاہا کہ انہیں دوبارہ مکہ نہ بھیجا جائے ۔ مگر سہیل بن عمرو نے کہا کہ اگر آپ نے ابو جندل کو ہمارے حوالے نہ کیا تو ہم آپ سے کسی طرح کی کوئی صلح نہیں کریں گے۔ یہ بڑا جذباتی لمحہ تھا۔ ابو جندل بیڑیوں میں خون آلود سامنے کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا: اے مسلمانو، کیا میں مشرکین کی طرف لوٹا دیا جاؤں گا، حالانکہ میں اسلام قبول کر چکا ہوں۔ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ ان لوگوں نے مجھے کس قدر عذاب پہنچایا ہے۔ اس کے با وجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مکہ کی طرف لوٹا دیا اور ان سے کہا: يَا أَبَا جُنْدُلٍ، اصْبِرْ وَاحْتَسِبْ، فَإِنَّ اللَّهَ جَاعِلٌ لَكَ وَلِمَنْ مَعَكَ مِنْ الْمُسْتَضْعَفِينَ فَرَجاً وَمَخْرَجاً (سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ (318) یعنی،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader