Urdu book · پیغمبرِ انقلاب

اسباقِ سیرت

Urdu book, p. 63

By Maulana Wahiduddin Khan

اے ابو جندل، صبر کرو، اللہ تمہارے لیے اور دوسرے کمزور مسلمانوں کے لیے گنجائش پیدا کرے گا۔ مذکورہ حدیث میں لڑنا اور شہید ہو جانا اگر مطلق معنوں میں ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر حضرت ابو جندل کو صبر و رضا کی نصیحت نہ فرماتے ۔ بلکہ انہیں شہادت کا راستہ بتاتے اور خود بھی اپنے اصحاب سمیت قریش سے لڑجاتے۔ 3۔ اسی حدیبیہ کا واقعہ ہے کہ قریش نے آپ کو روکا اور کہا کہ ہم اس سال آپ کو عمرہ کے لیے مکہ میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ آپ اس پر راضی ہو کر واپس مدینہ چلے آئے۔ اور عمرہ کے لیے مکہ جانے پر اصرار نہیں کیا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731)۔ حالانکہ یہ خالص دینی معاملہ تھا اور آپ خدائی بشارت کی بنیاد پر اپنے اصحاب کو لے کر زیارت حرم کے لیے جا رہے تھے۔ اگر مذکورہ حدیث میں دین کے لیے لڑ کر شہید ہونا مطلق معنوں میں ہو تو آپ کو چاہیے تھا کہ اسی سال عمرہ کرنے کے لیے اصرار کریں، خواہ اس کے نتیجہ میں عمرہ ملے یا شہادت۔ 4۔ مکہ میں عمار بن یاسر اور ان کے والدین بنو مخزوم کے غلام تھے۔ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اسلام میں داخل ہو گئے۔ بنو مخزوم کو ان کا اسلام لانا سخت ناپسند تھا۔ چنانچہ وہ ان کو عین دوپہر کے وقت صحرا میں لے جاتے اور تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر انہیں سخت عذاب دیتے۔ حتیٰ کہ عمار کی والدہ کو انہوں نے قتل کر دیا۔ ابن ہشام اس واقعہ کو نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: فَيَمُرُّ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ، فِيمَا بَلَغَنِي: صَبْرًا آلَ يَاسِرِ، مَوْعِدُكُمُ الْجَنَّةُ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 320)۔ یعنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرتے اور جیسا کہ مجھے روایت پہنچی ہے ان سے کہتے: اے خاندان یاسر، صبر کرو، تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page