اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 64
By Maulana Wahiduddin Khan
مذکورہ حدیث اگر مطلق معنوں میں ہو تو ایسا کہنا، نعوذ باللہ، بزدلی کی تعلیم دینا ہوگا۔ پھر تو آپ کو آل یاسر سے کہنا چاہیے تھا کہ تم لوگ لڑ کر شہید ہو جاؤ اور خود بھی اس مقدس جنگ میں ان کے ساتھ شریک ہو جاتے۔ خواہ آل یاسر کو بچا سکیں یا اسی راہ میں شہادت کا درجہ حاصل کر لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسوہ رسول ان چیزوں میں سے ہے جن کی ایک سے زیادہ تعبیر ممکن ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسوہ رسول کے معاملہ میں آدمی ہمیشہ صحیح تعبیر اور غلط تعبیر کے درمیان رہتا ہے۔ اور جو چیز کسی کو غلط تعبیر سے بچاتی ہے وہ صرف ایک ہے۔ یہ کہ خوف خدا نے آدمی کو حقیقت پسندی کی اُس سطح پر پہنچا رکھا ہو جس کو سنجیدگی کہا جاتا ہے۔ آدمی اگر فی الواقع سنجیدہ ہو تو اس کی سنجیدگی اس کو اسوہ رسول کے بارے میں مذکورہ سوالات سے دوچار کرے گی۔ اس کو چونکہ صرف مفید مطلب بات نہیں لینی تھی بلکہ یہ معلوم کرنا تھا کہ حقیقی طور پر اسوہ نبوت کیا ہے۔ اس کا یہ ذہن اس کو غلط تعبیر سے بچائے گا۔ وہ بے آمیز ذہن کے تحت اس مسئلہ پر غور کرے گا اور خدا کی توفیق سے بات کی تہ تک پہنچ جائے گا۔ اب اس کو معلوم ہوگا کہ اس کا راز ہے: بڑے فائدہ کی خاطر چھوٹے نقصان کو برداشت کرنا۔ اہل ایمان کے لیے سب سے اہم چیز دعوتی مصلحت ہے نہ کہ شخصی مصلحت۔ اگر دعوتی مصلحت اور شخصی مصلحت میں ٹکراؤ ہو تو شخصی مصلحت کو قربان کر کے دعوتی مصلحت کو حاصل کیا جائے گا۔ مذکورہ واقعات میں رسول کی طرف سے صبر کی تلقین کی وجہ یہی دعوتی مصلحت ہے۔ دعوتی کام کو مؤثر طور پر جاری رکھنے کے لیے خدا کے رسول نے جان، مال اور خاندان کی قربانیاں برداشت کیں ۔ حتیٰ کہ دشمنوں کی طرف سے ”دین میں مداخلت“ کو بھی وقتی طور پر گوارا کر لیا۔ تاکہ دعوت کا کام جاری رہے جو اہل ایمان کے لیے ہر قسم کی کامیابیوں کا واحد ذریعہ ہے۔ جب آدمی کے سامنے کوئی مقصد ہو تو وہ مقصد کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader