اسباقِ سیرت
Urdu book, p. 65
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے تمام نقصانات کو نظر انداز کرتا رہتا ہے تاکہ اصل مقصد ہاتھ سے نہ جائے۔ اور جب کوئی مقصد سامنے نہ رہے تو وہ ہر چیز میں الجھتا ہے۔ وہ ہر بات کے لیے دوسروں سے لڑتا ہے۔ خواہ اس کے نتیجہ میں یہی کیوں نہ ہو کہ چھوٹے نقصان کو برداشت نہ کرنے کی بنا پر اس کو زیادہ بڑا نقصان برداشت کرنا پڑے۔ داعی اس دنیا کا سب سے زیادہ با مقصد انسان ہے، اس لیے وہ ہمیشہ پہلے رویہ کو اختیار کرتا ہے نہ کہ دوسرے رویہ کو۔ اس کلیہ سے مستثنیٰ صرف وہ امور ہیں جب کہ معاملہ خالص دفاعی ہو، اس کا دعوتی مقصد سے کوئی تعلق نہ ہو۔ اس تمہید کے بعد یہاں ہم مختلف پہلوؤں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ واقعات نقل کرتے ہیں جن میں ہماری زندگی کے لیے زبردست سبق اور نصیحت موجود ہے۔ —1— رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آغازِ نبوت کا ذکر کرتے ہوئے ابن ہشام لکھتے ہیں: اللہ نے جب ارادہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت کے منصب پر مقرر کرے تو آپ کا یہ حال ہوا کہ جب آپ اپنی کسی ضرورت کے لیے بستی سے نکلتے تو بہت دور چلے جاتے، یہاں تک کہ مکانات نظر نہ آتے۔ آپ مکہ کی پہاڑیوں اور وادیوں میں کھو جاتے (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 35-234)۔ ابن ہشام نے عبداللہ بن زبیر کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ہر سال میں ایک مہینہ حراء پہاڑ میں چلے جاتے اور اس کے پڑوس میں رہتے (کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي حِرَاءَ مِنْ كُلِّ سَنَةٍ شَهْرًا) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ابوطالب کے کچھ اشعار ابن ہشام نے نقل کیے ہیں۔ ایک مصرعہ یہ ہے: وَرَاقٍ لِيَرْقَى فِي حِرَاءٍ وَنَازِلِ یعنی وہ حراء پر چڑھنے والے ہیں اور پھر اس سے اترنے والے ہیں (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 235)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader